پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہےکہ میں چاہتی ہوں جنرل۔فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کرکے جواب مانگا جائے۔

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہےکہ میں چاہتی ہوں جنرل۔فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کرکے جواب مانگا جائے۔

 پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہےکہ میں چاہتی ہوں جنرل۔فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کرکے جواب مانگا جائے۔ 

مریم نوز کا کہناتھاکہ جنرل فیض حمید وضاحت دیں کہ انہوں نے حکومت گرانے میں کردار نہیں ادا کیااور کیوں اس معاملے میں اتنی خاموشی ہے اج تک تین سال میں کوئی تردید نہیں آئی اور شوکت عزیز کے جج نے عہدے پر ہوتے ہوئے جو گوائی دی وہ مزاق نہیں تھی

مریم نواز کا کہناتھاکہ جنرل فیض حمید کی دلوائی سزا وہی دوسال کی محنت ہے جو آج عوام کے سامنے ہےآج چھپی کچھ خبروں میں یہ تاثر دیا گیا کہ میں کسی ادارے پر حملہ آور ہوئی تو ایسا نہیں ہے کیا کسی ادارے کے زریعے ایک حکمران کو سزا دلوانا عدلیہ پر دباو ڈالا جانا عہدے کا غلط استعمال ہونا اس کاوقار بڑھاتا ہے ان کا کہناتھاکہ جنرل فیض حمید کی وجہ سے ادارے کی طرف انگلیاں اٹھی تو کیا اختیارات کے غلط استعمال سے ادارے کا وقار بڑھا؟مریم نواز نے کہاکہ ایک شخص کے زاتی مفاد کی وجہ سے عدلیہ پر دباو ڈالا گیا،ٓآج میں نے ہماری سزا کے پیچھے شخص کے بارے میں قوم کو بتا دیا کہاں ہیں اج جے ائی ٹی جس کو ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر چلاتا تھا، نائب صدر مسلم لیگ ن کا کہناتھاکہ مجھ سے جے ائی ٹی میں سوال کرنے والا ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھا آج کہاں ہے وہ درخواستگزار جو پانامہ پیپز کو عدالت لے گیا

 قوم آج پنڈورا پیپرز پر اسے ڈھونڈ رہے ہیں، مریم نواز نے کہاکہ ہمیں کہا کرتے تھے کہ نوازشریف ایمپائر کو ملا کر کھیلتا ہے تو اج میں کہتی ہوں کہ عمران خان نے جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر حکومت گرائی

مریم نواز نے کہاکہ کل جو درخواست دی اس کی تفصیلات عوام کو بتانا چاہتی ہوں،

اسی عدالت کے ایک جج شوکت عزیز نے چشم کشادہ انکشافات کیے، ہمارے کیس کے تناظر میں شوکت عزیز صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید نے کہا مجھے اور میرے والد کو رہا نہ کیا جائے جنرل فیض حمید نے اس بات کو یقینی بنایا کہ 2018 سے قبل کوئی ایسا بنچ نہ بننے دیا جائے جو ہمیں رہائی دے