چیف جسٹس بلوچستان نعیم اختر افغان نے حکومت کو احتجاج کرنیوالے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے

عرفان علی عرفان علی

چیف جسٹس بلوچستان نعیم اختر افغان نے حکومت کو احتجاج کرنیوالے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے

بلوچستان ہائی کورٹ میں اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان سے متعلق کیس کی سماعت ینگ ڈاکٹرزکی سرزنش توہین عدالت کی کاروائی کا عندیہ ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجی دھرنے سے لاتعلقی کا اعلان کردیا کہا دھرنا ینگ ڈاکٹرز کا نہیں بلکہ ڈاکٹرز کا ہے جس پر چیف جسٹس بلوچستان نعیم اختر افغان نے حکومت کو احتجاج کرنیوالے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے


 کیس کی سماعت چیف جسٹس بلوچستان نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ کی سربراہی میں ہوئی چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال پر وائی ڈی اے کے عہدیداران پر برہمی کا اظہارکیاچیف جسٹس بلوچستان نے ینگ ڈاکٹرز کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہم آپ کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں مگر آپ مسئلے کو جوں کو توں رکھنا چاہتے ہیں آپ نے پھر دھرنا اور ریلیاں شروع کردیں


  آپ کو کس نے عوام کو تنگ کرنے کا اختیار دیا آپ نے پھردھرنا دیدیا ہے چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز سے مکالمے کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ پروفیشن چھوڑ کر جوتوں کی دکان کھول لیں آپ یہ مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے


اگر یہ دھرنا آپ کا ہے تو بتائیں ابھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں آپکو کیا صورتحال پیش آتی ہے جس پر ینگ ڈاکٹر ز نے موقف اختیار کیا کہ ریڈزون میں جاری دھرنا ینگ ڈاکٹرز کا نہیں بلکہ ڈاکٹرز کا ہے ینگ ڈاکٹر ز کو مخاطپ کر تے ہوئے کہا کہ جو سفارشات آپ نے دینی تھیں دے دیں اب آپ کی ضرورت نہیں ہے آپ جائیں جو آپ کا دل کرتاہے آپ کریں لیکن آپ کو مزید اس طرح کی اجازت نہیں دی جائے گی ہم حکومت  سے کہتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنیوالوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔