کسان کی بیٹی اور جہیز

فرح خان فرح خان

کسان کی بیٹی اور جہیز

 

زمیندار نے جیسے ہی بیٹھک کے مخملی قالین پر قدم رکھا، کسان نے اپنی پگڑی اتار کر اس کے قدموں میں رکھ دی۔

 

زمیندار کی ایک زور دار ٹھوکر سے کسان کی ہلکی سی پگ اڑتی ہوئی کھڑکی سے باہر نکل گئی۔ اور زمیندار چلتا ہوا اپنی جہازی اور آرام دہ کرسی پہ جا بیٹھا۔

 

کسان نے ہاتھ جوڑتے ہوئے آواز نکالنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ زمیندار کے ملازم نے اس کو ٹھوکر مارتے ہوئے کہا، دور ہو کے بیٹھ۔ نظر نہیں آ رہا چوہدری صاحب ابھی تشریف لائے ہیں۔

 

نہ کر کمالے۔۔ آج بولنے دے اس کو۔ آج یہ آخری بار بولے گا۔ چوہدری بولا

سرکار، میری زمین برباد ہو رہی ہے۔ کھاد بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ کھیت ویران ہو رہے ہیں۔

 

فصلیں سیراب کرنے کے لیے پانی بھی نہیں ہے۔ ٹریکٹر کا پرزہ جو خراب ہوا تھا۔ کہیں نہیں مل رہا۔ گھر کا چولہا بھی جلانا مشکل ہو گیا ہے۔ اوپر سے مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔

 

 بجلی کا بل اس دفعہ تین گنا زیادہ آیا ہے۔

 اگلے مہینے بیٹی کی شادی ہے۔ میں آپ کا قرض اگلے سال چکا دوں گا۔

میرا پکا وعدہ ہے صاحب۔ کسان ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

تو پچھلے چھ مہینے سے یہی جھوٹی باتیں رو رہا ہے۔ کمالا بولا

 

کمالے، چپ کر جا تھوڑی دیر، تجھے کہا ہے نہ۔ چوہدری غرایا۔ اور اسی انداز میں کسان سے بولا۔ تیری بیٹی کا جہیز تیار ہے؟

 

 صاحب، میری بیوی نے دو چار چیزیں جمع کر رکھی ہیں۔ وہی بیٹی کو دے دوں گا۔

 

بیٹی کی شادی کی تیاری کر۔۔ اگلے مہینے میں برات لے کے تیرے گھر آ رہا ہوں۔ چوہدری مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا۔

 

کیا؟ صاحب خدا کا واسطہ، یہ ظلم نہ کریں۔ میری بیٹی منگ ہے میرے بھتیجے کی۔ میں رسوا ہو جاؤں گا۔ کیا منہ دکھاؤں گا برادری کو۔ کسان گڑگڑایا

 

 لا پھر میرا قرض واپس کر، جو پانچ سال سے تو نے نہیں لوٹایا۔

 تم تین کسانوں کو میں نے قرض دیا تھا زمینوں پر لگانے کو، باقی دو بھی نہیں اتار سکے۔ لیکن ان دونوں کی بیوی اور بیٹیاں میرے گھر میں ملازمہ  ہیں آج۔ تیری بیٹی کو تو میں اپنی عزت بنا رہا ہوں۔ پھر کیوں روتا ہے۔ چوہدری بولا

سرکار وہ منگ ہے۔۔۔۔

 

منگ ہے منگ ہے منگ ہے، دفعہ ہو جا۔ اور شادی کی تیاری کر۔ چوہدری نے لات مار کر کسان کو خود سے دور کیا۔

 

اگلے مہینے چوہدری نے گاڑی پر پھول لگوائے اور تیسری شادی کرنے کے لیے دلہا بن گیا۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے نوٹوں کی تھدی کھول کر ہوا میں پھینک دی۔

 بچے پیسے لوٹنے لگے تو چوہدری نے انہیں دیکھ کر زوردار قہقہہ لگایا۔ شہر کے کنارے پر قائم حویلی سے گاؤں کا سفر شروع ہوا۔

 گاؤں میں داخل ہوتے ہی چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آیا۔

 کچے راستوں سے مشکل اور دشواری سے گزرتے ہوئے چوہدری کسان کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ مکان کے دروازے کے ساتھ بے بسی کی تصویر بنا کسان اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

 

تیری بیٹی کہاں ہے؟ چوہدری نے آدھے گرے ہوئے مکان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

بیٹی اور اس کا جہیز دونوں سیلاب میں بہہ گئے۔ کسان نے کہا۔