11 ویں برسی پر اردو اسکالرز نے عابدہ اقبال آزاد کو مزاحمتی تخلیقکار قرار دیا

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

11 ویں برسی پر اردو اسکالرز نے عابدہ اقبال آزاد کو مزاحمتی تخلیقکار قرار دیا

 بیس اپریل عابدہ اقبال آزاد کی 11 ویں برسی معر وف شاعرہ و مصنفہ، افسانہ نگار و صحافی، کالم نگار عابدہ اقبال آزاد کی نویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

 کورونا مثبت کیسز کی بڑھتی ہوئی لہر کے پیش نظر ادبی سرگرمیاں معطل رہنے کے باوجود شائقین ادب اور عابدہ اقبال آزادکے مداحوں کے جانب سے آن لائن نشست اور وبینارکا انعقاد کیا جائے گا۔

 جبکہ تنظیم برائے فن اور تخلیق مماثلات اسرار اور حلقہ ارباب ذوق کراچی کے جانب سے بھی بذریعے زوم یادگاری سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔

عابدہ اقبال April 20, 2012 کو جہان ادب سے ہمیشہ کے لیئے کوچ کر گئیں۔

ا ن کی بے وقت وفات سے حلقہ ادب ایک منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ سے محروم ہو گیا۔

عابدہ اقبال بنگلادیش کے مشہور تاجرغلام ربانی کی بیٹی اور کراچی کے معروف advertising executive اقبال آزاد سیدکی اہلیہ تھیں۔

عابدہ اقبال آزاد نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مختصرعرسے میں نا صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ شاعری اور نثر ی تحریر دونوں ہی میں نئے نسل کی نمائندگی کی۔


شائقین ادب اور مداحوں کے دل میں آج بھی انکی نظمیں اور مضامین تازہ ہیں۔

 اس موقع پر اردو ادب کے معروف نقاد اور سینیر صحافی زیب ازکار حسین کا کہنا ہے کہ عابدہ اقبال نے فنی، تخلیقی اور مو ضوعاتی سطح پرجو خدمات سرانجام دیئے ہیں بنیادی نوعیت میں وہ مذاحمتی ہیں اس وجہ سے عابدہ اقبال آزاد ہمیشہ زندہ رہیں گی۔


 انجمن ترقی اردو ادب کے ڈاکٹر جاوید منظر نے کہا کہ عابدہ اقبال آزاد ایک منفرد د لب و لہجہ کی شاعرہ تھیں۔


انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے لیئے میرا پیغام ہے کہ وہ عابدہ اقبال کی شاعری، نظمیں اور نسری تحریریں پڑھنے سے انہیں اندازہ ہو گا کہ ایسی خوش طریقہ شاعرہ بہت کم ہی ملیں گی جو اردو ادب کے لیئے ایک مثال تھیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک یادگار۔

 اردو سکالراور شاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی کا کہنا تھا کی عابدہ اقبال آزاد بہت خوش اخلاق اور ملن سار خاتون تھیں۔

انکی شاعری، کالمز اور افسانے انکی خوبصورت شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا عابدہ بنیادی نوعیت کی صحافی تھیں اور اسی وجہ سے انکی تحریر بے خو ف اور مذاحمتی تھی۔

مصنفہ کالم نگار نسیم انجم نے کہا عابداقبال آزاد علم ادب کے افق پر وہ ستارہ ہے جو قبل از وقت دوب گیا۔

مگر وہ امنے حصے کا کام کر کے اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔عابدہ اقبال نے معاشرتی، سماجی، سیاسی اور خاص کر خواتین کے مسائل پر جم کر لکھا۔ عابدہ کی تخلیق میں مذاحمت اور احتجاج نمایاں نظر آتا ہے۔

وہ ایک بہترین تخلیقکار تھیں اور اپنے خدمات کے وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے ڈھاکا سے MBBS کی ڈگری حاصل کی مگر پیشہ وارانہ طور پے اس شعبے کو نہیں اپنا یا بلکہ صحافت کو ترجیح دیا۔

 عابدہ زندگی اور انسانیت کی شاعرہ تھیں۔انکی منفرد شاعری کی کتاب –

آسمان نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

عابدہ اقبال اپنی تحریر اور ادبی خدمات کے وجہ سے قارین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہیں گی۔