مالی سال2022-23 کےدوران ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا

عدنان اطہر عدنان اطہر

مالی سال2022-23  کےدوران ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا

مالی سال2022-23  کےدوران ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا۔ڈالر298 روپے93 پیسے تک مہنگاہوچکا ہے۔

 ایک سال میں ڈالر74 روپےتک مہنگا ہوا۔ماہرین کہتےہیں آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیرنےڈالرکی قیمت کوبےلگام کردیا ہے۔


رواں سال ڈالر 74 روپےتک مہنگا ہوچکا ہے۔ جولائی2022 میں ڈالر  سب سےزیادہ 27 روپے 20 پیسےتک مہنگا ہواتھا۔جبکہ 26 جنوری2023 کوڈالرایک روزمیں ایکساتھ سب سےزیادہ 24 روپے54 پیسوں تک مہنگا ہوکر255 روپے43 پیسوں کی سطح پربند ہواتھا۔


جون 2022 میں  ڈالرپہلی بار7 جون کو202 سےتجاوزکرتا 21 جون کو نئی تاریخی بلندی 212روپے پر پہنچ گیا تھا۔

2 جولائی2022 کوڈالرنئی تاریخی بلندی 239 روپے 94 پیسے تک مہنگا ہواتھا۔18 جولائی کوڈالر215 روپے20 پیسے اور  19 جولائی کو ڈالر221 روپے99 پیسے سےبڑھتا ہوا،،28 جولائی کو 239 روپے94 پیسے کی سطح پربند ہوا۔۔ ایک روزمیں 5 روپے90 پیسے سےزائدمہنگا،، پھرسستا ہونےکا بھی ریکارڈ اسی سال بنا۔اگست کےمہینےمیں ڈالرکی قیمت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔اگست کےپہلے ہفتےمیں ڈالر 13 روپےتک سستا ہوا۔۔ جبکہ دوسرےہفتےمیں ڈالرکی قیمت میں 8 روپے54 پیسوں تک گراوٹ ہوئی۔


ستمبرکےمہینےمیں ڈالرکی قیمت میں پھراتارچڑھاؤرہا اورمہینےکےاختتام پرڈالر 239 روپے71 پیسےتک مہنگاہوکربندہواتھا۔ستمبرمیں آئی ایم ایف کی قسط بھی ملی لیکن ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ستمبرمیں  اسحاق ڈارنے وزیر خزانہ کا منصب سنبھالا  لیکن پھربھی ڈالرکوکنٹرول نہ کیا جاسکا۔اکتوبرمیں ڈالر انٹر بینک میں 220 روپے 89 پیسے پربند ہوا۔11 نومبرکووزیرخزانہ اسحاق ڈارنےگورنراسٹیٹ بینک کےہمراہ ایکسچینج کمپنیوں سےملاقات میں دعوی کیا تھا کہ ڈالر200 روپےکی سطح سےنیچےآجائیگا لیکن تاحال ایسا نہ ہوسکا۔نومبرکےاختتام پرڈالر 223 روپے 95 پیسے کی سطح پربند ہوا۔دسمبرمیں ڈالر225 روپے64 پیسے کی سطح پرپہنچ  گیا۔


جنوری 2023میں ڈالر267 روپے89 پیسےکی سطح تک پہنچا۔نئےسال کےدوسرےمہینےکےاختتام پرڈالرکی قیمت 261 روپے50 پیسےکی سطح پرتھی۔مارچ کےآغازکےساتھ ہی ڈالرکی اونچی اڑان کا سفرشروع ہوگیا ۔انٹربینک میں ڈالر2 مارچ کو18روپے98 پیسے تک مہنگا ہوکر285 روپے9پیسوں کی سطح پربندہواتھا۔اپریل میں ڈالرکی قیمت نے 283 روپے84 پیسوں کی سطح کوچھولیا۔آئی ایم ایف معاہدےمیں تاخیراور ڈالرکی اونچی اڑان کےساتھ11مئی کوڈالرایکساتھ 8 روپے71 پیسوں تک مہنگا ہوکر298 روپے93 پیسوں کی سطح پربندہوا۔ 12 مئی کوڈالرانٹربینک میں 13 روپےسےزائدسستا ہوا۔مئی کےمہینےمیں ڈالر8 روپےسےزائد مزید مہنگا ہوا، جبکہ مہینےکےاختتام پرڈالر 296 روپےکی سطح تک جانےکےبعد اب 286 روپے19 پیسوں تک پہنچ گیا ہے۔