کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات

صبانور صبانور

کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات

کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات ۔ نئے سال کے  آغاز سے ہی کتے کے کاٹنے کے واقعات سامنے آنا شروع ۔

 تین روز  میں   ڈیڑھ سو سے زائد  کیسز رپورٹ۔ سال دوہزار تیئس میں  کتے کے کاٹنے کے بیالیس ہزار کیسز رپورٹ اور دس افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔

نئے سال میں بھی وہی حال۔کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات نا تھم سکے۔

سول اسپتال   میں یکم    جنوری سے اب  تک3 روز میں 140 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

سال 2023 میں کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہونے کا پچھلے سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

سول اسپتال میں سال 2023 میں 12 ہزار 1 سو نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ 1 موت واقع ہوئی۔

سال 2022 میں سول اسپتال میں 9415 نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

سول اسپتال میں رپورٹ ہونے والے اکثر کیس کا تعلق لیاری، بلدیہ، گولیمار ، اورنگی ٹائون اور گڈاپ سے ہے۔

جناح اسپتال میں سال 2023 میں کتے کے کاٹنے کے 15 ہزار نئے کیسز لائے گئے اموات کی تعداد 3 رہی۔

سال 2022 میں جناح اسپتال میں رپورٹ ہوئے کیسز کی تعداد 9829 تھی۔

انڈس اسپتال میں سال 2023 میں 13 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے، 6 اموات سامنے آئیں۔

سال 2022 میں انڈس اسپتال میں 9 ہزار نئے کیسز سامنے آئے تھے ۔

انڈس اسپتال میں ایک ہفتے کے دوران 4 نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ۔

عباسی شہید اسپتال میں سال 2023 میں 2 ہزار سے زائد ڈاگ بائٹ کیسز سامنے آئے۔

سال 2022 میں  عباسی شہید اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے 2200  کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

انڈس اسپتال کی مدد سے کتوں کی نس بندی کے لیے شروع کیا گیا پائلٹ پراجیکٹ بھی 2 سال قبل ختم ہوگیا تھا۔

 نئے بلدیاتی قانون کے مطابق کتا مار مہم  ٹاونز  اور کنٹونمنٹ بورڈز کی ذمہ داری ہے ، لیکن ٹاؤنز اورکنٹونمنٹ بورڈز کا موقف ہے سابقہ سندھ حکومت نے کتوں کو نہ مارنے کی پالیسی اپنائی تھے جو تاحال نافد العمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فل الحال کتوں کو مارنے کے حوالے سے کوئی فنڈ  مختص نہیں کیا گیا۔