انتخابات میں سیاسی جماعتیں اقلیتوں کو پارٹی ٹکٹ دینے سے گھبراتی ہیں، منگلا شرما

عمران عمران

انتخابات میں سیاسی جماعتیں اقلیتوں  کو  پارٹی ٹکٹ دینے سے گھبراتی ہیں، منگلا شرما

الیکشن میں اقلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین کےکامیاب نہ ہونے میں اہم کردار سیاسی جماعتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کافقدان ہے۔سیاسی جماعتوں کے اپنے نظریات، خوف اندیشے اور تحفظات ہوتے ہیں ۔ جس کی بنا پر وہ کھل کر کسی بھی اقلیتی خاتون و مرد امیدوار کو  پارٹی ٹکٹ دینے سے گھبراتے ہیں۔

 

اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والی خواتین یوں تو پارٹی کی مداح سرائی کے معاملے  میں کسی سے پچھے نہیں لیکن سچ پھر بھی زبان پر آہی جاتاہے

منگلا شرما ایک پاکستانی سیاست دان ہیں وہ اگست 2018 سے سندھ کی صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں۔

 منگلا شرما نے پاک ہندو ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جو اقلیتوں کے لیبر اور سماجی حقوق پر کام کرتی ہے۔

منگلا شرما 2000 میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا ۔وہ یونین کونسل سے جیتی بعد میں سٹی کونسل میں 2005 تک رہی پھر دوبارہ 2016 کونسل میں دوبارہ آئیں۔آپ یوں کہہ سکتے ہیں انہوں نے سیاست کو نچلی سطح سے شروع کیا ۔انہوں نے ایک عام آدمی کے دکھ درد اور کرب کو محسوس کیا ۔ انکی پریشانیاں اس کے مسائل اور انکا حل کیا ہونا چاہیے اس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی۔ اور ابھی بھی  سیاست میں  پہلے سے ذیادہ متحرک ہیں۔

وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق صوبائی کمیشن کی ممبر کے طور پر نامزد ہوئی ہیں اور انکلوسیسی سیکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں ، جو ایک امریکی غیر منفعتی سفیر سوینی ہنٹ کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔

منگلا شرما کو وزارت ترقی خواتین کی طرف سے "فاطمہ جناح ایوارڈ" بھی دیا جاچکا ہے۔

منگلہ شرما کہتی ہیں کہ اقلیتوں کے جو بنیادی مسائل ہیں وہ حل نہیں ہو پاتے ہیں۔ اس وجوہات یہ ہے ابھی تک اقلتییں مخصوص نشستوں پر ہی آرہی  ہیں۔

اقلیتوں کو  ان  نشستوں پر سیاسی جماعتوں  کے ٹکٹ پر   ہی آنا پڑتاہے۔ اس میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ  مختلف سیاسی جماعتیں جن امیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں  وہ یا توبہت دولت جائیداد والے ہوتےہیں بہترین تاجر ہوتےہیں یا اس کے علاوہ ایسے کسی کام سے وابستہ ہوتے ہیں جس میں انکے معاشی حالت بہت مستحکم اور بہترین ہوتی ہے۔ وہ نمائندہ سیاسی جماعت کی جانب سے اقلیتیوں کی سیٹ پر آتاہے ۔ نچلی سطح کی اقلیت کے لوگوں کو وہ جوابدہ اس لیے نہیں ہوتاہے کہ وہ انکے ووٹ سے منتخب نہیں ہوکر آیا ہوتاہے۔اور اس میں اس میں انکا فوکس اقلیتوں کو کم اس سیاسی جماعت کو ذیادہ خوش کرنے کے حوالے سے متحرک رہتاہے۔ جن کے ٹکٹ پر وہ اس نشست پر آیا ہوتاہے۔
میں کہتی ہوں ہمیں  اس حوالے سے ابھی تک اچھی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں بےشک اقلیتیوں کا یا خواتین کا چیئرمین اوروائس چیئرمین کا کوٹہ رکھا جائے تاکہ ان کو سیاست کی سمجھ بوجھ ہوسکیں۔ معلوم ہوسکیں کہ سیاست کیا ہے عوم کے مسائل کس طرح سے حل کرنے ہیں ۔

اس سے بھی بہتر بات اور میری تجویز یہ ہے کہ سیاسی جماعت اگر کسی خاتون یا مرد امیدوار کو ایک بار مخصوص نشست پر منتخب کرتی تو وہ ٹھیک ہے لیکن آنے والے دوسری الیکشن میں انہیں جنرل سیٹ پر کھڑا کرنا چاہیے تاکہ وہ جیت کر اپنے علاقےکے مسائل حل کریں ۔ مخصوص نشست کی سیٹ پھر کسی نوجوان خاتون اور مرد کو دی جائے ۔ تاکہ الیکشن کا ایک بہترین پروسیس چلے۔ اقلیتی کہاں اپنا ووٹ ڈالتی ہے انکا یہ پروسیس ہی روکا ہوا ۔

اقلیتیں سیاسی جماعتوں پر نظر جمائے بیٹھی ہوتی ہیں کہ یہ اگر ٹکٹ دینگےتو میں کسی مخصوص نشست پر آسکتی ہوں ۔

خواتین کو بلدیات کے الیکشن لڑنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہوسکیں عوامی مسائل اس کے بعد انہیں صوبائی لیول پر الیکشن لڑنا چاہیے اسی طرح پھر وہ جنرل سیٹ پر الیکشن لڑنے کی اہل ہو ایک میکنزم بنانے کی ابھی بہت گنجائش ہے تاکہ یہ معاملہ آگے بڑھ سکیں۔

کیونکہ الیکشن پروسیس سے گزرنے کے باوجود بھی اس حد تک یا لیول تک مسائل اقلیتوں کے حل نہیں ہوتے ہیں جیسے کہ حل ہونے چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کی اپنا ایک نظریہ سوچ ہوتی ہے مختلف سیاسی جماعتیں مختلف انداز میں سوچتی ہیں اور کام کرتی ہیں۔ ابھی تک سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین کے اہمیت اور وجود کو اس طرح سے تسلیم نہیں کیاگیا جس طرح کیا جانا چاہیے۔ خواتین کو اگر تسلیم کیا جاتا اور انکو اہمیت دی جاتی  تو خواتین جنرل سیٹوں اور عام انتخابات میں مختلف حلقوں سے انتخابات لڑتی  یہ بات اقلیتی خواتین کے حوالے سے میں کررہی ہوں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کی 5 پرسنٹ موجودگی کو لازمی قراردیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں پابند ہیں کہ انہیں ٹکٹ دیں اور منتخب کرائیں۔

اقلیتی خواتین کے لیے الیکشن لڑنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ وہ گھر والوں پر انحصار کررہی ہوتی ہے اس کا ذریعہ آمدن کوئی خاص نہیں ہوتاہے کہ وہ الیکشن میں بڑے خرچے کریں کمپئن کاحصہ بنیں۔ ہمارے یہاں ایک روایت خرچہ اس امیدوار پر مختلف لوگوں کی جانب سے کیا جاتاہے جن کا معلوم ہوتاہے یہ جیتے گااور اس سےیہ یہ فوائد حاصل کرنےہیں۔ منگلا شرما کہتی ہیں کہ مہیش کمار ملانی ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو اگست 2018 سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں جنرل سیٹ (غیر مخصوص نشست) جیتنے والے پہلے غیر مسلم ہیں۔

ان کا تعلق تھرپارکر کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1996-97 میں کیا اور پی پی پی ڈسٹرکٹ تھرپارکر کے صدر اور اقلیتی ونگ پی پی پی صوبہ سندھ کے صدر رہے۔جہاں پر اقلیتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور انہیں جنرل نشست پر کھڑا کیا جاتاہے وہاں سے وہ جیتے ہیں۔

منگلا شرما کہتی ہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں نچلی سطح کی اقلیتیوں کے نمائندوں کو جو سوشل ورکر ایکٹوسٹ ہوں انکو چنےگی تو ہی انکےبنیادی اوردیرینہ مسائل کا سدباب ہوسکیں گا۔ منگلا شرما کا کہناہے جیسے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں اقلیت سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون امیدوار نے پی کے 25 بونیر سے جنرل نشست پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا ئے ہیں ۔

اقلیت سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراچکی ہیں ۔ انکو بھی پہلے کوئی نہیں جانتا تھا لیکن میڈیا کا بہت اہم کردار ہے وہ اہم ایشوز لوگوں کو منظر عام پر لیے آتاہے جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں پھر آہستہ آہستہ انٹرنیشنل کمیونٹیز کا رجحان بھی ان کی طرف بڑھتا چلا جاتاہے۔ اس طرح خواتین کو سرہانے کی ضرورت ہے انہیں اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔

سندھ اسمبلی میں سب سے ذیادہ جو ذیادتی ہوتی ہے اقلیتوں میں وہ کرسچن کے ساتھ ہوتی ہے انکی مخصوص صرف ایک نشست رکھی گئی ہے انہیں بہتر کرنے کی گنجائش ہے۔