موبائل , ٹی وی اسکرین کا استعمال اور بچوں پر پڑنے والے اثرات

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

موبائل , ٹی وی اسکرین کا  استعمال اور بچوں پر پڑنے والے اثرات

تحریر :نادیہ نواز 


سکرین ٹائم سے مراد ٹی وی موبائل لیپ ٹاپ جیسے حالات کا 20 سے 24 گھنٹوں کے دوران استعمال ہے کہ بچے اس دورانیے میں کتنے گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں
 

شایان جو کہ دوسری کلاس کا طالب علم ہے وہ اپنی کلاس میں چپ رہتا ہے اور شایان دن بدن  تعلیم میں توجہ نہیں دیتا اور  کمزورہوتا جارہاہے یہ اس کی ٹیچر بسمہ کا کہنا ہے  کہ بچہ کلاس میں بھی سارا دن موبائل ٹیکنالوجی کی ہی باتیں کرتا ہے ۔

موبائل فون کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے جہاں انسانی معاشرے اور طرز زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اس کے استعمال سے نہ صرف اخلاقی خرابیوں نے جنم لیا بلکہ اس انسانی صحت پر مضر اثرات ڈالے۔

بجلی گیس یا زندگی کوئی اور سہولت ہو یا نہ ہو اور وائی فائی کا ہونا بہت لازم ہےاور وہ اس چیز میں فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ موبائل  کو بہت زیادہ جانتا ہے لیکن برعکس وہ تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتا اس کی والدہ کہتے ہیں کہ شایان بہت زیادہ موبائل کا استعمال کرتا ہے اور موبائل کے زیادہ استعمال سے اس کا اپنے گھر والوں سے  رابطہ کٹتا جارہاہے۔

اس کی والدہ کلثوم آصف کہتی ہیں کہ اگر اس کو موبائل نہ دیا جائے تو وہ بے چینی محسوس کرتا ہے اور چڑچڑاہوجاتاہے۔ اس کو تب تک سکون ہی نہیں آتا جب تک وہ سمارٹ فون کو استعمال نہ کرے۔ کلثوم  کہتی ہیں کہ سمارٹ فون کے استعمال سے اب اس کی نظر بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے اور ٹیچرز بسمہ کے مطابق وہ کلاس کی کسی ایکٹیوٹی میں توجہ نہیں دیتا حتیٰ وہ کسی بچے سے دوستی نہیں کرتا سمارٹ فون نے نئی نسل کو نہ صرف ذہنی بلکہ اعصابی کمزوری بھی پیدا کر دی ہے۔

 اب بچے دن بہ دن بڑے  ہورے ہیں ان کا انسانوں سے رابطہ کم ہوتاجارہاہے ایک بچہ والدین کے نہ ہونے پر ڈپریشن محسوس کرتا تھا اور اپنے بہن بھائیوں کے جانے پرافسردہ ہو جاتا تھا اج کا بچہ یہ محسوس نہیں کرتا اسے صرف سمارٹ فون چاہیے کیونکہ بچوں کا اپنے والدین اپنے دوستوں سے کم اٹیچمنٹ ہے وہ زیادہ موبائل کی طرف مائل ہیں بچوں کا جذباتی تعلق کم ہوتا جا رہا ہے.

پاکستان کی شعبیہ pediatric سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ادریس کا کہنا ہے کہ بچوں کو سکرین ٹائم کے حوالے سے کچھ اصول بتائے کم اور بچوں جن کی عمر 18 ماہ سے کم ہو ان کو سکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے والدین کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو اعلی تعلیمی پروگرام دکھانے چاہیے ایک سے پانچ سال کے بچوں کو ایک گھنٹے تک سکرین استعمال نہیں کرنی چاہیے آج کل کے بچے تعلیمی پروگرام کے علاوہ تفریح اور انٹرٹینمنٹ کے لیے بھی سکرین کا استعمال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ سکرین پر دیکھنے والی زندگی کو اپنی اصل زندگی سے موازنہ کرتے ہیں اور مختلف قسم کی نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں

ایڈوکیٹ حسن جو کہ لاہور میں رہتے ہیں ان کا کا بچہ اب چھ سال کا ہے ایڈوکیٹ حسن کا کہنا ہے کہ جب ان کا بچہ ڈھائی سال کا تھا تو وہ اس  دنیا میں کھو گیا ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی بیوی دونوں پروفیشنل تھے وہ اپنے بچے کو بہلانے کے لیے انہیں موبائل فون دے دیتے تھے ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے نے موبائل کا ڈیڑھ سال بہت زیادہ استعمال کیا کہ وہ دنیا میں کھو گیا وہی کارٹون اور چیزیں جو وہ سمارٹ فون میں دیکھتا تھا وہ بس انہیں ہی سوچتا تھا ان کا کہنا ہے کہ ان کو یہ چیز جب وہ ڈھائی سال کا ہوا تب محسوس ہوئی کیونکہ ان کا بچہ نہ ان سے باتیں کرتا تھا اور وہ ہر وقت بس موبائل کا ہی استعمال کرتا تھا وہ اپنے بچے کی اس رویے کی وجہ سے وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے گئے ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کا بچہ ذہنی طور پر خیالاتی  دنیا میں چلا گیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے کو توجہ دیں اپنے بچے کو ورزش کروائیں اس کے ساتھ باتیں کریں تاکہ وہ اپنے طرز زندگی کی طرف  آہستہ آہستہ آ جائے ان کا کہنا ہے بچے کو توجہ دینے سے اس کی کمیونیکیشن اب بہتر ہو رہی ہیں اور اب وہ اہستہ اہستہ نارمل زندگی کی طرف آرہا ہے ایجادات جہاں زندگی کے لیے آسانیاں  پیدا کرتے ہیں وہاں ساتھ ساتھ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں موبائل فون نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا وہاں ساتھ ساتھ اس نے بہت سے نفسیاتی الجھنوں کو بھی جنم دیا بات تب خطرناک ہو جاتی ہے جب کوئی ماں اپنے دو ماہ کے بچے کو بہلانے کے لیے موبائل کا سہارا دیتی ہے اور بچے کا ذہن اس کی رنگین دنیا میں کھو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے والدین اس بات کو اپنے لیے سکون سمجھ لیتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ اپنے بچوں کو ایسے جال میں پھنسا رہے ہیں

ایک تحقیق کے مطابق بچوں کا ذہن بڑوں کے مقابلے میں زیادہ ریڈیو ایکٹیو ویوز جذب کرتے ہیں اور یہ ویوز بڑوں کے مقابلے میں بچوں میں 10 گنا زیادہ کرتے ہیں موبائل کا زیادہ استعمال کرنے والے بچہ کند ذہن ہو جاتا ہے نہ ہی وہ پڑھائی پر توجہ دیتا ہے اور ہر وقت جھگڑا کرتا ہے اور والدین کی طرف سے تشدد کا بھی شکار ہو جاتا ہے حالانکہ اس کی وجہ والدین خودی  ہوتے ہیں سکرین استعمال کرنے سے نہ صرف نظر کمزور ہوتی ہے بلکہ بچے کو ہلکے پڑ جاتے ہیں اور دوسرا بڑا مسئلہ توجہ کی کمی نہیں ان کی نیند کی  کمی شامل ہے سکرین استعمال سے بچوں میں تجسس بہت بڑھ جاتا ہے لہذا وہ رات کو اٹھ اٹھ کر موبائل چیک کرتے ہیں

سائیکالوجسٹ  ردا جن کا تعلق لاہور سے ہیں ان کا کہنا ہے موبائل کے زیادہ استعمال سے بچہ نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے