میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان منتخب

عمران عمران

میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان منتخب

میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان منتخب

شہباز شریف پاکستان کے 25ویں وزیراعظم منتخب

شہباز شریف پاکستان کے 33ویں وزیراعظم ہوں گےقومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صاد ق نے  کہاکہ شہباز شریف نے 201 ووٹ حاصل کئے،ترجمان مسلم لیگ ن  مریم اورنگزیب نےکہاکہ عمر ایوب نے 92ووٹ حاصل کیے ،

شہباز شریف 201ووٹ لے کر وزیراعظم  پاکستان منتخب ہو گئے  ، وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خطاب میں کہاکہ چاروں صوبوں ،گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر میں اسپتال اور یونیورسٹیزبناسکتے ہیں،

چاروں صوبوں میں کارخانوں کا جال بچھا سکتے ہیں ،

اس خسارے کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے،

ایک ہزار ارب کی سبسڈی دینے کے باوجود 500سے 600ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے،

میں کھڑی کی چوری کی نہیں بلکہ بجلی کی چوری کی بات کررہا ہوں ،

بجلی کا گردشی قرضہ2300ارب روپے ہے،

دوسرا چیلنج بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے،

انشا اللہ ملک کو عظیم بنائیں اور آگے چلیں گے،

یا تو قرضوں سے جان چھڑالیں یا محکوموں کی طرح معاملات چلائیں ،

نظام میں تبدیلی لانی ہے ،

80ہزار ارب کے بیرونی اور اندرونی قرضے لے چکے ہیں ،

کیا یہ صورتحال شور شرابہ کرنا چاہئے ؟

جس ایوان میں کھڑے ہیں اس کا خرچ بھی قرض سے ادا کئے جارہے ہیں ،

یہ سب سے بڑا چیلنج یہی ہے،

تعلیم اور دیگر شعبوں کو فنڈز کہاں سے دیں گے،

7سو ارب روپے کا خسارہ ہو تو ترقیاتی منصوبوں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

کل محصولات کا اندازہ ہے وہ 12ہزار تین سو ارب روپے ہے،

صوبوں کو تقسیم کے بعد سات ہزار تین سو ارب بچتے ہیں،

سود کی ادائیگی 8ہزار ارب ہے ،

7سو ارب روپے کا پہلے دن سے خسارہ ہے،

یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے،

ہم ان چیلنجز کو مل کر عبور کریں اور پاکستان کو اس کا مقام دلائیں گے،

یہ بہت بڑا چیلنج ہے،

ملک کو طوفان سے نکال کر کنارے پر لے جائیں گے،

پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں ،

سابق اسپیکر راجا پرویز اشرف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،

میاں نواز شریف،آصف زرداری،بلاول بھٹو اور دیگر ساتھیوں نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا،

ہمارے سامنے دو راستے تھے

ایک راستہ تھا ہم اپنی سیاست بچاتے اور آرام سے بیٹھ جاتے،

دوسرا ملک کو بچاتے ہوئے ہر چیز کی قربانی دیتے،

شہدا کے ورثا پر اس وقت کیا بیتی ہوگی،

ایسے واقعات اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا،

9مئی کو اداروں پر حملے کئے گئے ،

بے نظیر بھٹو کی شہادت پر آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،

جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پوری آپوزیشن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا،

ملک کے خلاف زہر اگلا،

ہم نے کبھی بدلے کی سیاست کا سوچا تک نہیں ،

ہم نے صبر ،تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا ،