بیبی ٹیکسی

عرفان علی عرفان علی

    بیبی ٹیکسی

کبھی کراچی کی سڑکوں پر بیبی ٹیکسی کی دھوم ہوا کرتی تھے لیکن وقت کے ساتھ اب بیبی ٹیکسی محدود ہوچکی ہے یہ ٹیکسی 1970 میں کراچی کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی تھی لیکن اب یہ ٹیکسیاں ریلوے اسٹیشن تک محدود ہوچکی ہیں  بیبی ٹیکسی کی سیر کروا رہے ہیں

بیبی ٹیکسی کو ستر کی دہائی میں متعارف کیاگیا بیبی کا نام ہی اس کی پہچان بنا۔

منفرد نام کی وجہ سے اسکی شہرت اور پذیرائی میں بہت جلد اضافہ ہوتا چلاگیا۔ ۔ بیبی ٹیکسی  اپنے رنگ و آہنگ ،بناوٹ اور کارکردگی کی وجہ سے سب کو بہا گئی۔لیکن گزرتے وقت کی گرہوں نے اسے نایاب کردیا ۔

یہ کراچی کا کینٹ اسٹیشن ہے جہاں آج بھی 1970کی مضبوط باڈی رکھنے والی بیبی ٹیکسی استعمال کی جارہی ہےگاڑی کےبانٹ پر لگے شیشےاور گول بتیاں آج بھی پرانے وقت کی یاد کو تازہ کردیتی ہیں۔ بیبی ٹیکسی کی سب سے بڑی خصوصیت اس میں لگا میٹر ہے جو فاصلےکے مطابق رقم کا تعین کرتا تھا۔ یہ میٹر نوے کی دہائی تک سات روپے فی کلومیٹر تک کرائیہ وصول کرتا تھا۔

 

بیبی ٹیکسی کو دور جدید نےجہاں محدود کیا وہی اس کا نام  بھی بیبی ٹیکسی سے کالی پیلی ٹیکسی میں تبدیل ہوگیا۔