کراچی میں
فضائی آلودگی کی خطرناک صورتحال۔
رہائشی
علاقوں اور نہروں میں فضلہ پھینکنے والوں کی
پکڑ ہوگی۔ ٹریٹمینٹ پلانٹ نہ لگانے والی صنعتیں سیل اور دھواں چھوڑنے والی
گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
وزیر ماحولیات
سندھ اسماعیل راہو کی صدارت میں ماحولیات سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے۔
صوبائی وزیر
نےبتایا کہ کراچی میں ایئر کوالٹی انڈیکس کا110جگہ سروےکیا گیا۔
کافی مقامات
پر ایئر کوالٹی انڈیکس 250 ریکارڈ کیا گیا،جو
کافی حد تک خطرناک ہے۔
اجلاس میں رہائشی علاقوں اور نہروں میں فضلہ پھینکنےوالوں
کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ ہوا۔
محکمہ ماحولیات کراچی میں ٹریٹمینٹ پلانٹ نہ لگانے والی صنعتوں
کوپہلےمرحلےمیں شوکا ز نوٹسز جاری کرےگا۔
تیس دن بعد حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے والی
صنعتوں کو سیل کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر
اسماعیل راہو نےبتایا کہ سندھ کےاندر صنعتوں
میں دوسو ٹریٹمینٹ پلانٹ لگ چکےہیں اور مزید پچاس کے قریب لگ رہے ہیں۔
کچرے کو
جلانے سےکئی ماحولیا تی اور صحت کے مسائل پیدا ہورہےہیں۔
گاڑیوں کا ڈیزل
جلنے اور روڈوں پرپڑی مٹی اڑتی ہے ،، جو
ماحولیات کےلئےخطرناک ہے۔
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو ٹریفک پولیس کے
ساتھ ملکر بند کیا جائے۔
ڈی جی سیپا نے بتایا کہ دس ہزار صنعتوں میں سے
چار ہزار صنعتوں میں ٹریٹمینٹ پلانٹ لگنے ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد میں پرانی بیٹریاں جلانےوالی بھٹیاں
مکمل بند کروادی گئی ہیں۔
صوبائی وزیرنے ہدایت کی کہ ،، کوئی کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔