کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی
ہلاکت کا معمہ تاحال حل طلب ہے۔
مگر نئی تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت نے
انصاف کی امید ایک بار پھر جگا دی ہے۔
آٹھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کا پہلا اجلاس
ہوا تو میر رضا علی کے والدین اور اہلِ خانہ بھی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی
گیشنز سندھ عامر فاروقی کے دفتر پہنچے۔
خاندان نے نئی ٹیم کے سامنے اپنے تحفظات
اور مؤقف رکھ دیے۔
جبکہ سابق تحقیقاتی کمیٹی کے افسران
سمیت دیگر متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے۔
میر رضا علی کی ہلاکت۔
ایک ایسا کیس جس میں سوالات بڑھتے گئے
اور جواب کم ہوتے گئے۔
اب نئی تحقیقاتی ٹیم نے اس کیس کی کڑیاں
دوبارہ جوڑنے کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز
سندھ عامر فاروقی کی سربراہی میں آٹھ رکنی ٹیم کے پہلے اجلاس میں میر رضا علی کے
والدین اور اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر بھی شریک ہوئے۔
خاندان نے اپنا مؤقف تحقیقاتی ٹیم کے
سامنے رکھ دیا۔
اور اب نظریں ان فرانزک رپورٹس پر ہیں
جو کیس کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
اجلاس کے بعد میر رضا علی کے والد میر
حسین نے کہا کہ اگر حقائق پہلے سامنے آجاتے تو شاید قبر کشائی کی نوبت ہی نہ آتی۔
"اگر یہی چیز ہماری تھرٹی فرسٹ کو بن جاتی تو آئی
تھنک کہ ہمیں قبر کشائی کی طرف بھی نہیں جانا پڑتا۔۔۔ آج ہم جس جگہ پہ پہنچے ہیں،
آج ہمیں تھوڑی سی سیٹیسفیکشن ملی ہے۔ لیٹس ہوپ کہ ان شاء اللہ بچے کو انصاف ملے
اور تین چار دن میں یہ ہمیں کوئی رزلٹ دے۔"
خاندان کے وکیل جبران ناصر نے فرانزک
شواہد کے تحفظ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے اور فرانزک جانچ کے لیے
حاصل کیے گئے بعض نمونے تاحال لیب نہیں پہنچے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نمونوں کو محفوظ
رکھنے یا بروقت لیب پہنچانے میں غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی
کی جائے گی۔
"اگر کوئی نمونے لیے گئے اور وہ فارنسک لیب نہیں
پہنچ سکے۔۔۔ تو جو نمونے ہینڈ اوور کیے تھے، وہ پچھلے آئی او کیس شبیر لغاری صاحب
اور ان کی انویسٹی گیشن ٹیم کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ نمونے انہوں نے بروقت
کیوں نہیں پہنچائے۔ کسی بھی قسم کی کوئی غفلت، کوئی کمی نظر آئی تو we will go
after their careers, have no doubt about it."
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ
قبر کشائی کے دوران حاصل کیے گئے ڈی این اے کے چار نمونوں کے ساتھ میر رضا علی کے
والد اور والدہ کے ریفرنس سیمپلز بھی فرانزک لیب پہنچا دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کا نتیجہ آئندہ دو روز میں متوقع
ہے۔
یہی رپورٹ اس سوال کا جواب بھی دے گی کہ
قبر سے نکالی گئی لاش واقعی میر رضا علی کی تھی یا نہیں۔
کیس میں اب قتل اور شواہد چھپانے یا
ضائع کرنے سے متعلق دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق دفعہ 302 قتل۔
جبکہ دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ضائع
کرنے سے متعلق ہے۔
اس کے علاوہ دفعہ 365 بھی مقدمے کا حصہ
بنائی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی
میں مزید دو افسران کو شامل کیے جانے کا امکان بھی ہے۔
میر رضا علی کے ورثا نے ایک ڈی ایس پی
اور ایک انسپکٹر کو تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنانے کی درخواست دی ہے۔
ادھر پولیس نے لاش ملنے کے مقام کے قریب
واقع گیسٹ ہاؤس پر تالے لگا کر اسے سیل کر دیا ہے۔
میر رضا علی کی موت کے گرد چھائے سوالات
کے جواب اب فرانزک رپورٹس، شواہد اور نئی تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت سے ملنے کی امید
ہے۔
خاندان انصاف کا منتظر ہے، جبکہ اگلے
چند روز اس کیس میں انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔