آزادیٔ اظہار کسی بھی فعال جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہی حق شہری احتساب، شفاف طرزِ حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو ممکن بناتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیٔ اظہار اور تقریر کا بنیادی حق دیتا ہے، جس پر صرف قانون کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 19-A عوام کے حقِ معلومات کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم پاکستان بھر میں صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے یہ آئینی ضمانتیں اب عملی حقیقت کے بجائے محض کاغذی وعدے بنتی جا رہی ہیں۔
پاکستان کا میڈیا ایک غیر یقینی اور خطرناک دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں صحافت کو دبانے کے لیے کھلے عام جسمانی تشدد اور قتل جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اب ریاستی اداروں اور بااثر مقامی عناصر نے کنٹرول کے لیے زیادہ منظم اور انتظامی نوعیت کے طریقے اختیار کر لیے ہیں۔
آج پاکستان میں صحافیوں کو انصاف نہ ملنے کا مسئلہ صرف حملہ آوروں کو سزا نہ دینے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک وسیع تر قانونی محاصرے (Legal Siege) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس نظام میں قانونی کارروائیوں، سائبر کرائم قوانین اور ریگولیٹری اختیارات کو اس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے کہ قانون کے تحت انصاف کا عمل ہی سزا دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران مرتب کردہ تصدیق شدہ مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف کم از کم 97 حملے اور خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
اعدادوشمار کے مطابق یہ تعداد گزشتہ مانیٹرنگ مدت میں ریکارڈ کیے گئے 142 واقعات کے مقابلے میں 32 فیصد کم ہے۔ تاہم واقعات میں یہ کمی بظاہر گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ ہر ماہ اوسطاً تقریباً 10 بڑے واقعات رپورٹ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں صحافت اب بھی ایک خطرناک پیشہ ہے۔ ان واقعات کی شدت، ملک گیر پھیلاؤ اور ادارہ جاتی نوعیت اس خطرے کو مزید واضح کرتی ہے۔
97 رپورٹ شدہ واقعات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
قتل اور قاتلانہ حملے: پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران ایک صحافی کا قتل اور قتل کی تین کوششیں۔
براہِ راست دھمکیاں: جان سے مارنے کی 9 دھمکیوں سمیت جسمانی نقصان پہنچانے کی مجموعی طور پر 18 دھمکیاں۔
جسمانی تشدد اور حملے: براہِ راست تشدد کے 11 واقعات، جن میں 8 کے نتیجے میں جسمانی چوٹیں آئیں جبکہ 3 واقعات میں صحافیوں کو جسمانی طور پر زدوکوب یا بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
قانونی ہراسانی اور قانونی کارروائیاں: قانونی کارروائی کی 32 دھمکیاں اور 13 باقاعدہ قانونی مقدمات۔
غیر قانونی حراست: ایف آئی آر کے بعد 7 گرفتاریاں اور بغیر الزامات واضح کیے حراست میں رکھنے کے 5 واقعات۔
ڈیجیٹل اور ادارہ جاتی حملے: ڈیجیٹل دھمکیوں کے 3 واقعات، ہیکنگ کی ایک کوشش اور میڈیا دفتر پر حملے یا سنسرشپ کا ایک واقعہ۔
ان واقعات میں سے 94 کیسز (97 فیصد) براہِ راست انفرادی صحافیوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تھے، جبکہ 3 کیسز (3 فیصد) میڈیا اداروں کے خلاف تھے۔
آن لائن اور آزاد ڈیجیٹل صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن کے خلاف 36 واقعات (37 فیصد) رپورٹ ہوئے۔ ٹیلی ویژن سے وابستہ صحافیوں کے خلاف 33 واقعات (34 فیصد) جبکہ پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کے خلاف 27 واقعات (28 فیصد) سامنے آئے۔
مزید برآں، 61 واقعات (63 فیصد) میں سرکاری حکام اور ریاستی عہدیداروں کو مبینہ طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ میڈیا کو دباؤ میں رکھنے کے حوالے سے ریاستی اہلکار سب سے بڑا مبینہ ذریعہ بن کر سامنے آئے۔
جغرافیائی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی انتظامی علاقہ صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیوں سے محفوظ نہیں رہا۔
صحافیوں کو درپیش خطرات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون اور پالیسی میں کیے گئے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کا جائزہ لیا جائے، خصوصاً سندھ میں۔
بظاہر 2025–26 کے اعدادوشمار میں سندھ میں صحافیوں کے خلاف صرف 3 تصدیق شدہ واقعات (3 فیصد) رپورٹ ہوئے، جن میں ایک جسمانی حملہ، جس کے نتیجے میں صحافی زخمی ہوا، اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ایک باقاعدہ قانونی مقدمہ شامل ہے۔
دوسری جانب سندھ قومی میڈیا امپیونٹی انڈیکس میں 10 میں سے 8 اسکور کے ساتھ سرفہرست ہے۔ صوبے نے 2021 میں سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ منظور کیا اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے باقاعدہ صوبائی کمیشن بھی قائم کیا۔
تاہم قانون سازی کی یہ پیش رفت کئی سنگین زمینی مسائل پر پردہ ڈالتی ہے۔
1۔ جغرافیائی فاصلے کا سنگین مسئلہ
سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن کی سرگرمیاں زیادہ تر کراچی تک محدود ہیں۔ فیلڈ مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونِ سندھ اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد کمیشن کے شکایتی نظام اور طریقہ کار سے تقریباً ناواقف ہے۔
2۔ ضلعی سطح پر تحفظ کے نظام کا فقدان
ضلعی سطح پر فوکل پرسنز اور واقعات کی منظم دستاویز بندی کا شدید فقدان ہے۔ اندرونِ سندھ میں جاگیردارانہ زمینوں، پانی کے مافیاز، مقامی بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے والے صحافیوں کے پاس ہنگامی تحفظ اور فوری ردعمل کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
3۔ عوامی مفاد کی صحافت کے خلاف PECA کا استعمال
سندھ میں اس حوالے سے صحافی محمد اسلم شاہ کا کیس ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کراچی میں پانی کی مسلسل قلت اور بلدیاتی پانی کی فراہمی کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹنگ کی۔
تاہم ان کے مؤقف کا جواب دینے یا حقائق کی بنیاد پر اختلاف کرنے کے بجائے ان کے خلاف فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ ہراسانی اور ہتکِ عزت کے الزامات کے تحت PECA کی دفعات 20 اور 24 لگائی گئیں۔ نتیجتاً انہیں جنوری 2026 میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد وہ بالآخر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
4۔ غیر مؤثر حفاظتی اقدامات
مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور صوبائی دارالحکومت سے باہر صحافیوں کو ہنگامی قانونی، نفسیاتی اور مالی معاونت فراہم کرنے میں ناکامی نے صوبائی تحفظ کے نظام کو غیر شہری اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے بڑی حد تک غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
سندھ کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی صحافیوں کو مختلف نوعیت کے خطرات اور دباؤ کا سامنا ہے۔
پنجاب (49 واقعات / 51 فیصد)
پنجاب پاکستان میں صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک اور ناموافق صوبہ بن کر سامنے آیا۔ ملک میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران قتل ہونے والا واحد تصدیق شدہ صحافی بھی پنجاب سے تعلق رکھتا تھا۔
لیہ میں روزنامہ نیا دور کے ضلعی رپورٹر شہزاد گجر کو ماحولیاتی مسائل پر تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں مبینہ طور پر ٹمبر مافیا نے ان کے بھائی سمیت گھات لگا کر قتل کر دیا۔
پنجاب میں صحافیوں کو جسمانی چوٹ پہنچانے والے مجموعی واقعات میں سے 75 فیصد جبکہ باقاعدہ قانونی کارروائیوں میں سے تقریباً 46 فیصد اسی صوبے میں رپورٹ ہوئیں۔
صوبے میں سرکاری اخراجات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹنگ، خصوصاً پنجاب کے چیف سیکریٹری کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر ہونے والے اخراجات سے متعلق خبروں کے بعد متعدد صحافیوں کو سائبر کرائم کے نوٹسز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بعض مبصرین اور صحافیوں کو غیر مشروط معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔
خیبر پختونخوا (19 واقعات / 20 فیصد)
خیبر پختونخوا صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر رہا۔ یہاں زیادہ تر واقعات سوشل میڈیا پر انتظامی بدعنوانی، کمیشن خوری اور سرکاری بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے والی رپورٹنگ سے متعلق تھے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ ہری پور کے صحافیوں آصف اقبال اور جاوید خان کو سائبر کرائم اداروں نے گرفتار کرکے حراست میں رکھا، حالانکہ ان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹس مستند حقِ معلومات (RTI) ریکارڈ پر مبنی تھیں۔
اسلام آباد (11 واقعات / 11 فیصد)
وفاقی دارالحکومت وفاقی سطح پر سائبر کرائم کارروائیوں اور اہم صحافیوں کی گرفتاریوں کا مرکز بن کر سامنے آیا۔
نمایاں واقعات میں ٹی وی اینکر بلال غوری کی گرفتاری شامل ہے، جنہیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) پر یوٹیوب کے ذریعے تنقید کرنے کے معاملے پر مبینہ طور پر پیشگی اطلاع کے بغیر نصف شب گرفتار کیا گیا اور ہائی سیکیورٹی لاک اپ میں رکھا گیا۔
اسی طرح صحافی اسد علی طور اور اعزاز سید کو بار بار طلب کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
بلوچستان (10 واقعات / 10 فیصد)
بلوچستان میں ضلعی سطح پر کام کرنے والے نامہ نگاروں کو ریاستی نگرانی، غیر واضح حراست اور پرتشدد دھمکیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا۔
سرکاری فلاحی پروگراموں اور اسکالرشپ اسکینڈلز کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں، جن میں مقبول جعفر بھی شامل ہیں، نے رات کے وقت چھاپوں، رشتہ داروں کے مبینہ جبری اغوا اور متعدد ایف آئی آرز کی شکایات کیں۔
موسیٰ خیل میں لالہ اسرائیفیل کا غیر مصدقہ قتل بھی دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے مقامی صحافیوں کی غیر محفوظ صورتحال کو نمایاں کرتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان
آزاد جموں و کشمیر میں 3 جبکہ گلگت بلتستان میں 2 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان علاقوں میں سیاسی رپورٹنگ اور شہری احتجاج سے متعلق خبروں پر صحافیوں کو PECA کے تحت کارروائیوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافی سہراب برکت کو درپیش طویل قانونی مشکلات اس کی ایک مثال ہیں۔
پاکستان میں جدید دور میں صحافت کو دبانے کا ایک بنیادی ذریعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) بن کر سامنے آیا ہے، جسے 2025 کی ترامیم کے بعد مزید تقویت ملی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
PECA کے مبینہ غلط استعمال کا طریقہ کار پانچ مراحل پر مشتمل دکھائی دیتا ہے:
1۔ مبہم شکایات
سرکاری عہدیداروں کی جانب سے ہتکِ عزت یا بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت مبہم شکایات درج کرائی جاتی ہیں۔
2۔ الزامات واضح کیے بغیر طلبی
صحافیوں کو طلب کیا جاتا ہے، لیکن انہیں بعض اوقات الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی جاتیں، جس سے انہیں اپنے دفاع کی تیاری میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
3۔ جبری پیشی اور مالی دباؤ
صحافیوں کو ذاتی طور پر پیش ہونے، اپنے آلات حوالے کرنے اور قانونی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
4۔ گرفتاری اور عدالتی ریمانڈ
گرفتاری اور مقدمے کی سماعت سے قبل حراست ہی صحافی کے لیے ایک عملی سزا بن جاتی ہے۔
5۔ قانونی بے یقینی اور طویل انتظار
مقدمات شاذ و نادر ہی کسی حتمی فیصلے یا بریت تک پہنچتے ہیں۔ صحافی طویل عرصے تک ضمانت کی قانونی کارروائیوں، مالی مشکلات اور خود سنسرشپ کا شکار رہتے ہیں۔ بعض کو اپنی رپورٹنگ سے پیچھے ہٹنے یا معافی مانگنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارہ جاتی نظام بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
وفاقی سطح پر پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پروفیشنلز ایکٹ کے تحت قائم حفاظتی نظام آزادانہ فنڈنگ، واضح قواعد و ضوابط اور انتظامی ڈھانچے سے محروم ہے، جس کے باعث اس کی عملی افادیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
جب تک ریاست سائبر کرائم قوانین کے تعزیری استعمال کا خاتمہ نہیں کرتی، قانونی اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث سرکاری اہلکاروں کا احتساب یقینی نہیں بناتی اور صحافیوں کے تحفظ کے کمیشنز کو ضلعی سطح پر ہنگامی اقدامات کرنے کے قابل نہیں بناتی، پاکستان میں آزادیٔ اظہار ایک خطرناک آئینی وعدہ ہی بنی رہے گی۔