سندھ کی چین سرمایہ کاری مہم: وعدے اور عملی نتائج کا امتحان

اسحاق سومرو اسحاق سومرو

سندھ کی چین سرمایہ کاری مہم: وعدے اور عملی نتائج کا امتحان




سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے حالیہ دورۂ چین نے سندھ اور چینی کمپنیوں کے درمیان توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور شہری ترقی کے شعبوں میں اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ شنگھائی الیکٹرک گروپ، شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ اور ہواوے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد بھی صوبائی حکومت کی جانب سے نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم، اس دورے کی اصل کامیابی اعلانات سے نہیں بلکہ ایسے منصوبوں سے جانچی جائے گی جو روزگار پیدا کریں، معیشت کو مضبوط بنائیں اور عوامی خدمات میں بہتری لائیں۔

شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد 12 سال کے وقفے کے بعد کیا گیا، جس میں سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سمیت تقریباً 400 مندوبین نے شرکت کی۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق، سرکاری اداروں اور چینی کمپنیوں کے درمیان 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جبکہ نجی شعبے کی کمپنیوں کے درمیان بھی معاہدے ہوئے۔ تعاون کے مجوزہ شعبوں میں تھر کا کوئلہ، الیکٹرک گاڑیاں، چارجنگ اسٹیشنز، قابلِ تجدید توانائی، جدید زراعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

یہ معاہدے سندھ میں سرمایہ کاری کے لیے بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن محض مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ان کی حقیقی اہمیت کا تعین مالیاتی وعدوں، منصوبوں کی فزیبلٹی، سرمایہ فراہم کرنے کے انتظامات، عمل درآمد کے شیڈول اور روزگار کے مواقع سے ہوگا

سندھ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کئی بنیادی فوائد موجود ہیں۔ کراچی ملک کا اہم ترین تجارتی مرکز ہے، جبکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ صوبے میں صنعتی بنیاد، زرعی وسائل، معدنی دولت اور ہوا و شمسی توانائی کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔ تاہم، ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے، واضح اور مستقل قواعد و ضوابط، مؤثر انتظامیہ اور ایسا کاروباری ماحول ضروری ہے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اس حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں گاڑیوں اور ان کے پرزوں کی تیاری، ادویہ سازی، کیمیکلز، الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، اسٹیل، تعمیراتی سامان اور گوداموں سمیت مختلف صنعتی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔

تاہم، صنعتی زون صرف زمین مختص کرنے اور سرمایہ کاری کے اعلانات سے کامیاب نہیں ہوتے۔ سرمایہ کاروں کو بجلی، پانی، نقل و حمل، کسٹم کی سہولتوں اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ صنعتی ترقی مقامی لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرے، انہیں فنی مہارتیں سکھائے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے ۔ توانائی کا شعبہ بھی سندھ اور چین کے تعاون میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تھر بلاک ون کے مربوط کوئلہ کان کنی اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں شنگھائی الیکٹرک کی سرمایہ کاری صوبے کے توانائی کے شعبے میں چینی شراکت داری کی نمایاں مثال ہے۔ کوئلے سے کیمیکلز کی تیاری، کوئلے پر تحقیق، بریکیٹنگ ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، بیٹری اسٹوریج اور کانوں کے پانی کو کارآمد بنانے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز پیش کیں۔

یہ تجاویز سندھ کے توانائی وسائل سے زیادہ اقتصادی فائدہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم، کوئلے پر مبنی نئی صنعتوں کا جائزہ ان کی مالیاتی افادیت، پانی کی ضروریات، اخراج اور ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے لینا ہوگا۔ سندھ کو اپنے مقامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ ہوا اور شمسی توانائی سمیت بیٹری اسٹوریج کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شفاف خریداری اور تجارتی بنیادوں پر پائیدار انتظامات ناگزیر ہیں۔

کراچی میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شنگھائی الیکٹرک کو سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نظام کے تحت سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے ایک بڑے منصوبے پر غور کرنے کی دعوت دی۔ سمندری پانی کو صاف کرکے شہر کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن ایسے منصوبے کی لاگت، توانائی کی ضروریات، پانی کی تقسیم اور ماحولیاتی اثرات کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ حکومت کو پانی کے ضیاع میں کمی، نظامِ آب کی بہتری، گندے پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

کراچی اور شنگھائی کے درمیان مجوزہ سسٹر سٹی تعلقات بھی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرسکتے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی، عوامی ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل گورننس اور بلدیاتی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون سے کراچی کو شنگھائی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہےا۔ کراچی کو ٹریفک کی بھیڑ، کچرے کے انتظام اور خستہ حال بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے مربوط منصوبہ بندی، مناسب مالی وسائل اور سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر تعاون درکار ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے سمیت ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے واضح مالیاتی انتظامات اور موجودہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ساتھ انضمام ضروری ہے۔

دورۂ چین کے دوران ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شنگھائی میں ہواوے کے تحقیق و ترقی کے مرکز کے دورے پر وزیرِ اعلیٰ کو سیمی کنڈکٹر چپس، فائیو جی اور سکس جی ٹیکنالوجی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے ہواوے کو کراچی میں، خصوصاً کراچی ایجوکیشن سٹی اور دیگر ٹیکنالوجی منصوبوں سے منسلک ہوکر، تحقیقی مراکز یا ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کرنے پر غور کرنے کی دعوت دی۔

سرکاری کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز، ڈیزاسٹر ریکوری، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل عوامی خدمات کے شعبوں میں تعاون صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم، ان شراکت داریوں میں شفاف خریداری، ڈیٹا کا تحفظ، سائبر سکیورٹی، مقامی ماہرین کی تربیت اور طویل مدتی دیکھ بھال کے پائیدار انتظامات کو یقینی بنانا ہوگا۔

سرمایہ کاری کے پورے عمل میں انسانی وسائل کی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شنگھائی الیکٹرک کی جانب سے تھر کے نوجوانوں کو تربیت اور روزگار فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا اور مقامی آبادی، بالخصوص خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ بڑی صنعتی سرمایہ کاری خودبخود عوام کی وسیع تر خوشحالی کی ضمانت نہیں بنتی۔ حکومت اور نجی کمپنیوں کو مقامی افراد کی بھرتیوں کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنے، فنی تربیت کے پروگرام شروع کرنے اور نوجوانوں و خواتین کے لیے تکنیکی شعبوں میں آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرنے چاہئیں۔ جامعات، فنی تربیتی اداروں اور مقامی کاروباروں کے ساتھ تعاون سے یہ یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ سرمایہ کاری کے فوائد صرف تعمیراتی مرحلے تک محدود نہ رہیں بلکہ مقامی آبادی کو طویل عرصے تک حاصل ہوتے رہیں۔

چین کے ساتھ سندھ کے اقتصادی تعلقات کو تجارتی پائیداری اور عوامی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھانا بھی ضروری ہے۔ چینی سرمایہ کاری نے پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے رابطوں، صنعتی تعاون اور اقتصادی ترقی کے مزید امکانات پیدا کیے ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں کے فوائد کا انحصار درست منصوبہ بندی، مناسب مالیاتی شرائط، مؤثر انتظام اور مقامی اداروں کی صلاحیت پر ہے۔

اب صوبائی حکومت کی فوری ذمہ داری ہے کہ شنگھائی کانفرنس میں کیے گئے اعلانات کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرے۔ حکومت کو باقاعدگی سے پیش رفت کی رپورٹ جاری کرنی چاہیے، جس میں ابتدائی مذاکرات، فزیبلٹی اسٹڈیز، مالیاتی معاہدوں، تعمیراتی مراحل اور تجارتی بنیادوں پر منصوبوں کے آغاز کے درمیان واضح فرق دکھایا جائے۔

سید مراد علی شاہ کے دورۂ چین نے سندھ اور چینی کمپنیوں و اداروں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ 34 مفاہمتی یادداشتیں اس سفر کا نقطۂ آغاز ہوسکتی ہیں، لیکن صرف اعلانات سے سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ثابت نہیں ہوتا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ کتنے منصوبے مالی وسائل حاصل کرتے ہیں، عملی طور پر شروع ہوتے ہیں، روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی ہنرمندی کو فروغ دیتے ہیں اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لاتے ہیں۔ سندھ اور چین کے درمیان تعاون کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا فیصلہ شنگھائی میں کیے گئے وعدوں کی تعداد سے نہیں بلکہ سندھ میں سامنے آنے والے ٹھوس نتائج سے ہونا چاہیے۔