*ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی کے مسودے کو کمیونٹی کی مشاورت سے حتمی شکل دے کر منظوری لی جائے گی۔ وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی وفد کو یقین دہانی*
کراچی (5 نومبر): سندھ حکومت نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافے اور تعلیم کے حصول میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ٹرانس جینڈر طلبہ کو سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی کے مسودے کو کمیونٹی کی مشاورت سے مزید مؤثر بنانے اور پالیسی کی منظوری کے عمل میں متعلقہ فریقین کی شمولیت یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں سندھ میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فوکل پرسن اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کی سٹی کونسلر شہزادی رائے، جینڈر انٹرایکٹو الائنس (GIA) کی آپریشنل، ہیومن ریسورسز اینڈ پالیسی منیجر زہریش خانزادی اور سربانگ سوسائٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مس کامی چودھری شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر سید سردار ی شاہ کو ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو درپیش مسائل، بالخصوص طلبہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے، تعلیم کے تسلسل اور حصولِ تعلیم کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کے بہت سے افراد تعلیم حاصل کرکے روایتی معاشی اور سماجی مشکلات سے نکلنا چاہتے ہیں اور عزت و وقار کے ساتھ باقاعدہ روزگار اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے حکومتی سرپرستی، سازگار تعلیمی ماحول اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کسی بھی کمیونٹی کے حقوق اور مساوی مواقع کو معاشرتی سطح پر تسلیم کروانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان معاملات کی باقاعدہ اونرشپ لے اور عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے اس ضمن میں مثالی پالیسی سازی اور علمی اقدامات کیے ہیں اور اسی سلسلے کی ایک کڑی ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی کا ڈرافٹ کی تیار بھی ہے، جسے منظوری سے پہلے متعلقہ کیبنیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تاہم اس عمل میں کمیونٹی کے نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بناتے ہوئے پالیسی کے ممکنہ اعتراضات اور تحفظات پر براہِ راست مشاورت کی جائے گی تا کہ تمام متعلقہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی کو حتمی شکل دی جا سکے۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی ریکروٹمنٹ پالیسی میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیونٹی کا کوئی فرد تعلیم حاصل کرکے مطلوبہ اہلیت اور قابلیت حاصل کرتا ہے اور بطور استاد خدمات انجام دینا چاہتا ہے تو اسے بھی دوسرے شہریوں کی طرح یہ بنیادی حق حاصل ہونا چاہیے۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی کے ذریعے ہی کمیونٹی کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں کسی بھی فرد کے لیے خوف، امتیاز اور عدم برداشت کے بجائے احترام، احساس اور قبولیت کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کی غرض سے سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے بورڈ اجلاس سے خصوصی منظوری لی جائے گی، تاکہ مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جا سکیں اور مالی مشکلات ان کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
ملاقات کے اختتام پر وفد نے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے کمیونٹی کے تعلیمی مسائل کے حل، پالیسی سازی میں مشاورت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس کی فراہمی کے حوالے سے تعاون کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں جانب سے ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے اور اس کی منظوری کے لیے مشاورتی عمل کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔