نقیب اللہ محسود کو کب کہاں اور کیسے قتل کیا گیا؟
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ محسودقتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو23 جنوری کو سنائے جانے کا امکان ہے۔۔۔نقیب اللہ محسود کو کب کہاں اور کیسے قتل کیا گیا اور کون اس میں ملوث پایا گیا
پرکشش آنکھیں ،دراز قد اور لمبے بال ۔۔۔فلمی ہیرو جیسی شخصیت کے حامل وزیر ستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری سن 2018 میں اس وقت کراچی میں ایس ایس پی ملیر کے عہدے پر فائز پولیس افسر راؤ انوار کی ٹیم نے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا تھا۔۔۔انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کہلائے جانے والےایس ایس پی راؤ انوار یا ان کی ٹیم کا یہ پہلا مقابلہ نہیں تھا،پولیس نے لانڈھی شاہ لطیف ٹاؤن کے قریب عثمان خاصخیلی گوٹھ میں کالعدم دہشتگرد تنظیم کے چار مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے ایک نقیب اللہ محسود بھی تھا۔
سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ان کی ٹیم نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ مبینہ پولیس مقابلہ ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔۔۔ماڈلنگ کےشوقین نوجوان نقیب اللہ محسود کی مختلف تصاویر اور ویڈیوز سامنےآئیں تو مبینہ مقابلے پر سوالات اٹھ گئے، سوشل میڈیا پر نقیب اللہ محسود کو انصاف دینے کی مہم نے زور پکڑا جبکہ نوجوان نقیب اللہ کے اہلخانہ بھی سامنے آ گئے ،جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نقیب اللہ کا کسی عسکری گروپ سے تعلق نہیں تھا بلکہ اسے 3جنوری کو پولیس نے سہراب گوٹھ کے قریب ہوٹل سے حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کردیا ۔
چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نےوزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کوواقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر آئی جی اے ڈی خواجہ نے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں ڈی آئی جی آزاد خان اور ڈی آئی جی سلطان خواجہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ، جس نے مبینہ مقابلے کو جعلی قرار دے دیا۔ پولیس ٹیم کو عہدوں سے ہٹا کر معطل کردیا گیا اور دو مقدمات بھی درج کئے گئے ۔
نقیب اللہ محسود کے والد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آئے اور بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے دھرنا دیا۔سپریم کورٹ نے معاملے پر جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا جو مکمل ہونے کے بعد کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔۔ راؤ انوار سمیت 15 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دس افراد کو اشتہاری مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت چار افراد ضمانت پر رہا ہیں جبکہ مقدمے میں نامزد ایک ملزم کا انتقال ہوچکا ہے۔
کراچی میں ستائیس سالہ نوجوان نقیب اللہ سمیت چار افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے کیس کا فیصلہ تیئس جنوری کو سنائے جانے کا امکان ہے۔
فیصلہ کچھ بھی آئے،،، تیرہ جنوری کو واقعہ کے بعد سے حصول انصاف کی طویل جدوجہد کرنے والا نقیب اللہ کا باپ،، موجود نہیں ہوگا۔
جنوری 2018،، ملیر کراچی کا علاقہ،، گولیاں چلیں،، مبینہ پولیس مقابلے میں 4 نوجوان جان سے گئے۔ سچ کیا تھا ،، طویل قانونی جنگ کے بعد فیصلے کی گھڑی آگئی۔
سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں ہلاک کیا تھا ۔ بعد میں سوشل میڈیا اور قومی ذرائع ابلاغ پر واقعہ کے مشکوک ہونے سے متعلق شور مچ گیا۔ پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے تحقیقات کے بعد پولیس مقابلے کو جعلی ،،اور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیا۔ راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی معاملے پر از خود نوٹس لیا تھا۔
فلاحی تنظیموں اور نقیب اللہ کے اہل خانہ کے احتجاج کے بعد ایک نیا مقدمہ درج ہوا،، جس میں راو انوار سمیت 10 اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ۔ جس میں ساٹھ سے زائد لوگوں کو گواہ بنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نمبر دو میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد مقدمہ اے ٹی سی سولہ میں منتقل ہوا ۔ کچھ عرصے روپوشی کے بعد اکیس مارچ دوہزار اٹھارہ کو ملزم راؤ انوا نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر خود کو سرنڈر کردیا۔دو مئی دوہزار اٹھارہ سے مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ تسلیم کر لی،، جس میں کہا گیا تھا کہ راو انوار سمیت تمام پولیس افسران اور اہلکار قتل میں ملوث تھے۔
دس جولائی دوہزار اٹھارہ کوانسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راو انوار کی ضمانت منظور کرلی۔ پچیس مارچ دوہزار انیس کو راو انوار پر فرد جرم عائد کی گئی۔ انصاف کے لئے در ،در کی خاک چھاننے اور عدالتوں کے چکر لگانے والے نقیب اللہ کے والد دو دسمبر دوہزار انیس کو انتقال کرگئے۔ عدالت جب بھی نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ سنائے گی۔ فیصلہ کچھ بھی آئے،، بزرگی میں حصول انصاف کے لئے طویل جدوجہدکرنے والے نقیب کے والد بھی وہاں موجود نہیں ہوں گے۔