سابق گورنر سندھ اور لیگی رہنما محمد زبیر
کہتے ہیں کپتان کہتے ہیں کہ معیشیت
پر ھمارے چوکے چھکے جاری ہیں۔
جوبائیڈن کی انکھوں میں انکھ ڈال کر بات کرنے والے آئی ایم ایف کے سامنے کیوں
ڈھیر ہوئے۔ایک بار پھر مہنگائی کا طوفان
آنے والا ہے۔
محمد زبیر کا کہنا تھا معیشت کے چوکوں چھکوں کی
بات کرنے والوں کے چار بجٹوں میں چار وزیرخزانہ
تبدیل ہوئے۔ آئی ایم ایف کی انکھوں میں
آنکھ ڈال کر بات کرنے والے خود آئی ایم ایف کے دباو کا شکار ہیں۔
مسلم لیگ ہاوس کارساز کراچی میں پریس کانفرنس
کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بتائے جو ٹیکس واپس لئے وہ
کہاں سے ریکور ہونگے حکومت کے نمبرز اور فیصلوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے انہوں نے تین سال میں قوم کو تباہی کے دھانے پر
پہنچا دیا ہے۔
شوکت ترین نے شیر بن کر کہا150ملین واپس لے رہے
ہیں یہ نہیں بتایا کہ بوجھ کتنا پڑے گا۔ٹکیس جمع نہیں ہوگا اتنا فسکل ڈیفسٹ بڑھ
جائےگا قرضے بڑھ جائیں گے۔
محمد زبیر کا کہنا تھاکہ مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لئے قرض لینا پڑے
گا ۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا طوفان دیکھ رہے ہیں۔