پاکستان کی گرمی میں گاڑی ٹھنڈی رکھنے والا جدید کور: سستا، مؤثر اور ماحول دوست

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

 پاکستان کی گرمی میں گاڑی ٹھنڈی رکھنے والا جدید کور:   سستا، مؤثر اور ماحول دوست


پاکستان میں گرمی ہر گزرتے سال کے ساتھ شدت اختیار کر رہی ہے، خاص طور پر کراچی، لاہور، ملتان اور اندرونِ سندھ جیسے علاقوں میں جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب کوئی گاڑی دھوپ میں کچھ دیر کے لیے کھڑی ہو، تو اس کا اندرونی ماحول تنورجیسا گرم ہو جاتا ہے۔ سیٹیں، ڈیش بورڈ، اسٹیئرنگ وہیل سب جلتے ہیں، اور گاڑی میں بیٹھنا تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں زیادہ تر لوگ گاڑی کا اے سی فوراً آن کرتے ہیں، جس سے ایندھن کی کھپت بڑھتی ہے، جیب پر بوجھ پڑتا ہے، اور فضا میں آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے

۔

اس مسئلے کا دلچسپ اور جدید حل چین نے پیش کیا ہے ۔چینی ماہرین نے ایک خاص قسم کا   "کارکور"(غلاف)تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی کو واپس منعکس کرتاہے اور گاڑی کو ٹھنڈا رکھتا ہے ۔ یہ کورکونچ شیل  (ایک سخت خول  جو سمندر کی تہہ میں پائے جانے والے نرم جسم والے جاندار، یعنی گھونگھے جیسی انواع کے جسم پر قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے) کی  شکل اور ساخت   سے متاثر ہے۔ جو بغیر کسی بجلی یا مشینری کے کام کرتا ہے۔ اسے صرف گاڑی کے اوپر پھیلایا جاتا ہے اور یہ سورج کی روشنی اور حرارت کو پلٹ کر آسمان کی طرف بھیج دیتا ہے، نتیجتاً گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو جاتا ہے۔

یہ کورجدید(ریڈی ایٹیو کولنگ)ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سطح نہ صرف سورج کی شعاعیں واپس لوٹاتی ہے بلکہ خود بھی حرارت خارج کرتی ہے۔ چین میں اس پر تجربات کیے جا چکے ہیں اور کامیاب نتائج ملے ہیں، خاص طور پر دھوپ میں کھڑی گاڑیوں پر۔


پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ یہاں گاڑیوں پر کالا شیشہ (ٹِنٹ) لگانا قانونی طور پر ممنوع ہے، جو کہ گرمی سے بچاؤ کا ایک عام طریقہ تھا۔ ایسے میں یہ کور ایک بالکل محفوظ، قانونی اور ماحول دوست حل فراہم کرتا ہے۔ نہ صرف گاڑی ٹھنڈی رہے گی، بلکہ ایئر کنڈیشنر کا استعمال بھی کم ہوگا، جس سے پٹرول کی بچت ہوگی اور گاڑی کے انجن پر بوجھ بھی کم پڑے گا۔


لاہور میں ایک آٹو کمپنی  نے اپنی گاڑیوں پر ایک خاص کولنگ فلم لگا کر آزمائش کی تھی ۔ جس کے اچھے نتائج سامنے آئے۔اگر پاکستان میں اسی طرح کے کورز درآمد کیے جائیں یا مقامی سطح پر تیار کیے جائیں ۔ تو یہ عام شہریوں کے لئے ایک زبردست سہولت ثابت ہوسکتی ہے۔ گاڑی  ٹھنڈی رہے گی، سفرآرام دہ ہوگا، ایندھن کی بچت ہوگی ، اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ حکو مت ، پرائیوٹ کمپنیاں اور عوام اگر اس ٹیکنالوجی کو سنجیدگی سے اپنا ئیں تو یہ پاکستان کے گرم موسم سے نمٹنے کا ایک سستا ، مؤثر اور ماحول دوست حل بن سکتا ہے۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی تبدیلیا ں بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکتی ہیں ، خاص کر جب   عوام گرمی ، ایندھن کی قیمتوں اور ماحولیاتی بحران جیسے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں ۔