کراچی میں انٹرسال اول دوہزار تیئس کا امتحان دینے والے طلبہ کے لئے بڑی خوشخبری

سدرہ پٹیل سدرہ پٹیل

 کراچی  میں انٹرسال اول  دوہزار تیئس  کا امتحان دینے والے  طلبہ کے لئے بڑی خوشخبری


کراچی  میں انٹرسال اول  دوہزار تیئس  کا امتحان دینے والے  طلبہ کے لئے بڑی خوشخبری۔ طلبہ کو  مختلف مضامین میں چھ سے پندرہ اضافی مارکس  دینے کا فیصلہ۔ امتحانی نتائج میں پاس ہونے کی شرح میں کمی کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے نگراں وزیراعلی سندھ کو رپورٹ پیش کردی۔
کراچی انٹر بورڈ کے فرسٹ ایئر دوہزار تیئس  کے امتحان میں بچوں کی پاسنگ پرسنٹیج میں کمی  کے معاملے پر  نگراں وزیر اعلی سندھ  مقبول باقر  نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی  تھی۔کمیٹی کے سربراہ این ای ڈی  یونیورسٹی کے وائس چانسلر  ڈاکٹر سروش لودھی نے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی۔ ترجمان وزیر اعلی سندھ    کےمطابق   نگراں وزیراعلی سندھ جسٹس  (ر) مقبول باقر نے کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی۔ 

 وزیراعلی  کا کہنا ہے  کمیٹی نے   انٹرسال اول  پری انجنیئرنگ ، پری میڈیکل  اور جنرل سائنس کے بچوں  کو پندرہ  فیصد تک  اضافی مارکس دینے کی سفارس کی تھی۔ کمیٹی کی سفارش    پر طلبہ کو  ریاضی میں پندرہ  جبکہ  فزکس ،کیمسٹری اور  شماریات میں بارہ،بارہ اضافی  مارکس دیئے جائیں گے۔ باٹنی اور زولوجی   میں چھ،چھ اضافی مارکس ملیں  گے۔ کمیٹی کی سفارش پر شعبہ   آئی ٹی کے محمد شہیر وقار کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعلی نے  کمیٹی کی سفارش پر تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے  امتحانی پیپرز کا پیٹرن  اور انکی مارکس  کی اسکیم بنانے  کی بھی ہدایت  ،، جو کم  از کم تین سال تک نافذ  رہے گی۔  امتحانی پیپرز  کے جانچ مراکز کی تعداد بڑھا کر دس کرنے  کی بھی ہدایت کردی۔ہدایت کی کہ  ایم سی کیوز کے  پیپرکی ،،او ایم آر سسٹم سے جانچ کی جائے تاکہ  اس میں کوئی غلطی نہ ہو۔امتحانات سے  متعلق تمام ملازمین بشمول  ہیڈ ایگزامینرز،ایگزامینرز ، انویجی لیٹرزکو تربیت دی جائے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن  کے قواعد و ضوابط کی  سختی سے پابندی کرائی جائے۔ وزیراعلی کا کہنا ہے  فیکٹ فائنڈنگ  کمیٹی کے مطابق امتحانات کے کنٹرولر ،تمام ڈپٹی کنٹرولرز اور آئی ٹی  منیجر امتحانات دوہزار تیرہ  کے انعقاد کے ذمہ دار ہیں۔قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے  والے بورڈ افسران  کے خلاف اظہار برہمی کے نوٹس جاری  کئے جائیں ۔