سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، سانا کے سابق جنرل سیکریٹری اشفاق میمن کی کراچی میں پریس کانفرنس

عمران عمران

سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، سانا کے سابق جنرل سیکریٹری اشفاق میمن  کی  کراچی  میں پریس کانفرنس



کراچی: سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے سابق جنرل سیکریٹری اشفاق میمن نے کراچی  میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں سندھ کے تاریخی، جغرافیائی، انتظامی اور آئینی تشخص کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران اٹھائے گئے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • سندھ کی وحدت کا تحفظ: سندھ محض نقشے پر کھینچی گئی فرضی لکیر نہیں بلکہ پانچ ہزار سالہ قدیم موئن جو دڑو کی تہذیب، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور لعل شہباز قلندر کی پاکیزہ دھرتی ہے۔ سندھ کی وحدت، جغرافیے یا انتظامی ڈھانچے کو چھیڑنے کی ہر کوشش کو سندھ کا ہر شہری اپنی بقا اور قومی شناخت پر حملہ تصور کرے گا۔

  • یکطرفہ فیصلوں کے نتائج: اگر سندھ کی آئینی حیثیت، جغرافیائی وحدت یا قدرتی وسائل (پانی، گیس، تیل، کوئلہ) پر کوئی بھی یکطرفہ یا جبری فیصلہ مسلط کیا گیا تو اس سے پیدا ہونے والے عوامی غیض و غضب اور سیاسی عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری سازشی عناصر پر ہوگی۔ پائیدار استحکام اور وفاق کی بقا طاقت کے بے جا استعمال کے بجائے اکائیوں کے حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔


  • لاپتہ بچوں کی بازیابی: پریا کماری اور دیگر لاپتہ بچوں کی عدم بازیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لا کر ان کی جلد اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔

  • پانی کی منصفانہ تقسیم: دریائے سندھ کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور جلال پور کینال جیسے منصوبوں پر سندھ کے عوام کے تحفظات کا سنجیدہ نوٹس لینے پر زور دیا گیا تاکہ زیریں سندھ کے زرعی، ماحولیاتی اور معاشی مفادات محفوظ رہ سکیں۔

  • میرٹ اور روزگار کی حمایت: سندھ پبلک سروس کمیشن کے باہر شفاف بھرتیوں اور میرٹ کے لیے احتجاج کرنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کامل حمایت کا اعلان کیا گیا اور اسے احسان کے بجائے شہریوں کا آئینی حق قرار دیا گیا۔

  • عالمی فورمز پر آواز اٹھانے کا عزم: دنیا بھر میں آباد اوورسیز سندھی اپنے تمام جائز، آئینی اور پرامن حقوق کے لیے ہر عالمی و قومی فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

اشفاق میمن نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ سندھ، سیاسی قیادت اور تمام آئینی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے عوام کے حقوق، وسائل، شناخت اور وحدت کا مکمل احترام کریں اور تمام خدشات و مسائل کا حل آئین، انصاف اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے تلاش کریں۔