پریم ساگر سنستھا کے وفد کی وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے ملاقات

جیوتی مہیشوری جیوتی مہیشوری

پریم ساگر سنستھا کے وفد کی وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے ملاقات

پریم ساگر سنستھا کے وفد کی وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے ملاقات

کراچی: پریم ساگر سنستھا کراچی کے ایک وفد نے وزیرِ تعلیم و خواندگی سندھ سید سردار علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں جماعت سوم، چہارم اور پنجم کے ہندو طلبہ کے لیے سَناتن دھرم کے نصاب پر مبنی درسی کتب کی اشاعت، تقسیم اور تدریسی عمل درآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد میں مسٹر وجے بی مرجانی، محترمہ جیوتی شری مہیشوری، مسٹر ونود کمار عیسر داسانی اور مسٹر سنتوش بھاٹیا شامل تھے۔

وفد نے حکومتِ سندھ کی جانب سے ہندو طلبہ کے لیے نصاب سے منظور شدہ مذہبی درسی کتب متعارف کرانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے اقلیتی طلبہ کے لیے جامع اور مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔


وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے باقاعدہ مذہبی تعلیم کی فراہمی ایک اہم اقدام ہے، جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 22، 25 اور 36 میں دی گئی مذہبی آزادی، قانون کے سامنے مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔

وفد نے وزیرِ تعلیم کو آگاہ کیا کہ سَناتن دھرم کی درسی کتب بڑی تعداد میں طلبہ تک پہنچ چکی ہیں اور طلبہ، والدین، اساتذہ اور ہندو برادری کی جانب سے ان کے حوالے سے مثبت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ملاقات کے دوران سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں سَناتن دھرم کے نصاب کے مؤثر نفاذ اور مذہبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید تعاون پر بھی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے اختتام پر وفد کی جانب سے وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کو گلدستہ اور سَناتن دھرم کی درسی کتب پیش کی گئیں۔

ملاقات میں جامع تعلیم، بین المذاہب ہم آہنگی اور سندھ بھر میں تمام مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مساوی تعلیمی مواقع کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔