سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ، سخت ٹیکس پالیسیوں اور جی ڈی پی میں مسلسل کمی جیسے معاشی مسائل دراصل حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی اور ماضی کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔۔۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ میں دنیا بھر میں ڈالر گیارہ فیصد گرا، لیکن پاکستان میں اس کے برعکس ڈالر مہنگا ہوا۔ انہوں نے اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی ڈالر خریداری کو قرار دیا، جو پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کی جا رہی ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ میکرو اکنامک انڈیکیٹرز میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم جی ڈی پی میں مسلسل کمی اور درآمدات میں گراوٹ تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، جس کا کوئی عملی پلان موجود نہیں۔انہوں نے حکومت کی دو لاکھ روپے سے زائد بینک ٹرانزیکشن پر 30 فیصد ٹیکس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے کسان اور اناج کے کاروبار سے وابستہ افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے اقدامات نیب جیسے قانون کی نقل بن چکے ہیں، جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔