نیشنل گیمز ، بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کی اقرباء پروری

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

نیشنل گیمز ، بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کی اقرباء پروری

 

منتخب کھلاڑیوں کی جگہ

 من پسند افراد کو کھلایا گیا

عین وقت پر محنتی کھلاڑیوں کی حق تلفی کرتے ہوئے نامعلوم کھلاڑیوں کے نام شامل کئے گئے احتجاج کرنے پرمنتخب کھلاڑیوںکو ٹیم سے نکال دیا گیا

صوبے کی باہمت بیٹیاں جنہوں نے نا مساعد حالات میں بھی بھرپور ٹریننگ کی تھی کھیلنے سے محروم رہ گئیں،من پسند افراد کی کارکردگی صوبے کی بدنامی کا باعث بنی

بلوچستان کے عوام آرچری کی مضبوط ٹیم سے میڈل کی توقع کررہے تھے لیکن اقرباء پروری اور پسند نا پسند کی وجہ سے صوبے کی بدنامی ہوئی، وزیراعلیٰ اور مشیر کھیل نوٹس لیں

سیکرٹری سپورٹس درا بلوچ ، ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یاسر بازئی ، گل محمد کاکڑ اور فیڈریشن کے اعلیٰ حکام کو بھی تمام واقعے سے آگاہ کیا گیا جنہوں نے ایکشن لینے کا عندیہ دیا ہے

  35 ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان دستے میں شامل منتخب آرچری گرلز ٹیم نے بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کے رویے اور منتخب کھلاڑی کی جگہ غیر منتخب کھلاڑی کو شامل کرنے کے خلاف احتجاج پر ایسوسی ایشن نے منتخب ٹیم کو کھیلنے نہیں دیا ۔ تفصیلات کے مطابق آج 9 دسمبر سے آرچری کے نیشنل گیمز میں آرچری کے مقابلے ہوئے ۔ بلوچستان کی جانب سے منتخب آرچری ٹیم لڑکوں کی ٹیم میں سمیع اللہ بخاری ، جلیل احمد ، الیاسی موسوی اور حیدر علی منتخب ہوئے تھے جبکہ لڑکیوں کی ٹیم میں چار کھلاڑی ردا فاطمہ ، روحامہ قدیر ، حناتا علی اور سکینہ شاہ منتخب ہوئی تھیں اور کیمپ میں سخت ٹریننگ کے بعد نیشنل گیمز میں شرکت کے لئے کراچی میں موجود ہیں۔ آج مقابلے ہونے تھے لیکن عین وقت پر لڑکیوں کی ٹیم میں شامل ردا فاطمہ کی جگہ ایک غیر منتخب لڑکی شکریہ بی بی کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ ٹرائلز میں ساتویں پوزیشن پر تھی جبکہ لڑکوں کی ٹیم میں سمیع اللہ بخاری کی جگہ ایک غیر متعلقہ شخص واجد کو ٹیم میں ڈالا گیا جس کا پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا ہے اور ان دونوں کو کس حیثیت سے لے جایا گیا۔جس پر منتخب کھلاڑیوں نے اس ناانصافی پر بلوچستان آرچری ایشن کے نمائندوں سے بات کی جنہوں نے منتخب کھلاڑیوں کے ساتھ تکرار کی اور کہا کہ ایسوسی ایشن کی مرضی کہ جس کو کھلائے ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور Ban کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیںاور منتخب کھلاڑیوں کی بجائے غیر منتخب شدہ لوگوں کو کھلایاجو کہ پہلے سے ساتھ لائے گئے تھے۔ اس رویے کے خلاف باقی کھلاڑیوں نے فوری طور پر اس ناانصافی اور اقرباء پروری کی اطلاع سیکرٹری سپورٹس بلوچستان درا بلوچ ، بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن کے گل محمد کاکڑ ،پاکستان آرچری فیڈریشن کے نمائندیہ اور مقابلے کے ٹیکنیکل اسٹاف کو دی اور ساری صورتحال سے آگاہ کیااور بتایا کہ ہمیں دانستہ کھیلنے سے روکا گیا ۔مذکورہ حکام نے اس بابت سخت ایکشن لینے کی یقین دہانی کرائی۔ بلوچستان سے منتخب کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ منتخب کھلاڑیوںکو عین وقت پر ٹیم سے نکال دیا گیا جس سے تمام کھلاڑیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور وہ سخت مایوس ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف کھلاڑیوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ بلوچستان کے لئے جگ ہنسائی کا سبب بھی بنا۔اس موقع پر بلوچستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے نیشنل گیمز کی کوریج کے لئے متعین مس مہک شاہد اور محمد خان بھی موجود تھے ۔ میڈیا اور سپورٹس سمیت عوامی حلقوں نے اس واقعے کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے ۔ متاثرہ کھلاڑیوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم محمدشہباز شریف ، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ، وزیراعلیٰ بلوچستان ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ، پاکستان آرچری فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ مذکورہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور اس واقعے کا سبب بننے والے اور کھیل کے اصولوں کو داغدار کرنے والے عوامل کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے جو بلوچستان کے لئے شرمندگی کا سبب بنے۔متاثرہ آرچری پلیئرز نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ کھیل امید کا ذریعہ ہے ۔اسے ناانصافی اور جانبداری سے آلودہ نہ ہونے دیں۔ میرٹ کو اہمیت دیں، تاکہ کسی بھی محنتی نوجوان کے ساتھ یہ سب دوبارہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ پہنچ کر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے اور آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اعلیٰ حکام اس ناپسندیدہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اور سخت ایکشن لیں گے ۔