روشنیوں کے شہر میں پیٹھ پر پانی سے بھری مشک اٹھاکر پانی کی ترسیل اب خواب سی لگتی ہے

عمران عمران

روشنیوں کے شہر میں پیٹھ پر پانی سے بھری مشک اٹھاکر پانی کی ترسیل  اب  خواب سی لگتی ہے

ماشکی کا قدیم پیشہ یوں تو دم توڑ چکا ہے،،،لیکن کچھ افراد  کےلئے  آج بھی یہ گھر کا چولہا جلانے کا وسیلہ ہے۔


کراچی میں بکرے کی کھال سے بنی مشک کاندھے پر لادے  سخت گرمی میں  کئی منزلہ چڑھ کر پانی پہنچانے والا بشیر احمد بھی ایسے ہی چند گنےچنے  افراد میں شامل ہے۔ وہ کہتا ہے  پہلے گزر بسر اچھا تھا لیکن اب مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔  ماشکی بشیر احمد کی کہانی چہرہ کی زبانی


روشنیوں کے شہر میں پیٹھ پر پانی سے بھری مشک اٹھاکر پانی کی ترسیل  اب  خواب سی لگتی ہے۔ مگراب بھی   کچھ افراد  اس کام سے اپنا گزر بسر کررہے ہیں۔اس قدیم پیشے کو   زندہ رکھنے والے یہ لوگ  کاندھے پر ماشکی لاد کر  گھروں اور  دکانوں کو  پانی فراہم کررہے ہیں۔


کئی دہائیوں  سے ماشکی کا کام کرنے والے  بشیر احمدنے بھی  بدلتے زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  ایک چھوٹا سا ٹینکر بنا لیا ہے۔صبح سویرے وہ  مشک کے ذریعے اپنے چھوٹے سے ٹینکر کو بھر لیتا ہے ۔فون پر جیسے ہی کوئی  آرڈر ملتا  ہے ،،،،تو وہ گدھا گاڑی میں   بتائے ہوئے پتے پر  پہنچ جاتا ہے۔  پھرٹینکر سے پانی مشک میں بھر کر   گھروں  اور دکانوں  تک پہنچاتا ہے۔ بشیر احمد کہتا ہے نوکری نہیں ملی جس کے باعث 30 سال سے ماشکی کا کام کررہا ہو۔


آج کے ترقی یافتہ دور میں مختلف کمپنیز  نے پانی کی فراہمی  شروع کی ہے لیکن شہری کہتے ہیں مشک کے پانی کی مقدار زیادہ اور معاوضہ کم ہے۔


بشیر احمد کے اکثر گاہک چوتھی یا پانچویں منزل کے رہائشی ہوتے ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر اور کمزوری   کی وجہ سے وہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ہانپنے لگتا ہے۔۔ لیکن  گھر کا  چولہا بھی تو جلانا ہے ۔۔ یہ سوچ اس میں ایک نئی توانائی پیدا کردیتی ہے۔ اور وہ نئے عزم کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہوجاتا ہے۔۔