کراچی کے ساحل پرسرد راتوں ،،،چاند تاروں کی روشنی میں
خوبصورت مہمان پڑاو ڈالتے ہیں۔ گرین
نسل کے کچھووں کے لئے افزائش نسل کے
لئے ہاکس بے کا مقام انتہائی موزوں ہے،،،
جہاں رات کی تاریکی میں مادہ کچھوے چار سے پانچ گھنٹے قیام کر کے انڈے دیتی ہیں۔
ساحل کی ریت پر جابجا پھیلے،،،،،، دھیمی رفتار سے چلتے پھرتے یہ سمندر ی کچھو ے ہیں۔
ساحل پر سمندری حیات کی چہل
قدمی اور محو استراحت ہونے کا حسین نظارہ
دیکھنا ہو،، تو چاند تاروں بھری رات سے بہتر وقت ہو ہی
نہیں سکتا۔
رات کے اس پہر کچھوے اپنی افزائش نسل کے لئے خشک زمین کا رخ
کرتے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر میں ان کی بڑ ی تعداد یہاں پائی جاتی ہے۔
موزوں
وقت اور موسم کی تلاش میں یہاں آنے والے
سمندری کچھوے شور اور اپنے قریب انسانوں کو دیکھ کر یہاں سے بھاگ بھی جاتے ہیں ۔
کچھووں کو دیکھ کر ساحل پر تفریح کو آئے شہریوں اور خاص کر
بچوں کے چہرے دیدنی تھے ۔ کسی نے تصویر بنائی،، تو کوئی انہیں چھو کر لطف
اندوز ہوا۔۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کے سمندر میں بڑی تعداد میں گرین کچھوے
موجود ہیں،، جو ساحل پر انڈے دیتے ہیں۔
چند
افرادان کے انڈے چوری کرکہ بچے مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں،، لیکن وہ بچے زیادہ دن
جی نہیں پاتے۔
سندھ وائلڈ لائف کی جانب سے بھی ساحل پر کچھووں کی دیکھ بھال اور محفوظ افزائش نسل کے لئے خصوصی انتظامات کیئے گئے ہیں۔ انڈوں کو ایک محفوظ مقام پر مٹی میں دبا دیا جاتا ہے اور وائلڈ لائف کی ٹیم بچوں کی پیدائش تک اس مقام کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کراچی اور بلوچستان کے ساحل پر صرف گرین کچھووں کی نسل رہ گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سمندری کچھووں کی دوسر ی نسل اولیو ریڈلی پاکستان کے ساحل پر نہیں ملی۔ دنیا بھر میں خوراک اور موسمی تبدیلی کی باعث کچھووں کی تعداد کم ہورہی ہے،، لیکن پاکستانی سمندر میں خوش قسمتی سے اب بھی پانچ ہزار کے قریب گرین کچھوے موجود ہیں۔