پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی
نے اپنےجاری بیان میں کہاہےکہ پاکستان ایک
آزاد اور خود مختار ملک ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی ملک کو ہمارے داخلی معاملات میں
مداخلت کرنی چاہیے۔
ان کا کہناتھاکہ یہاں فیصلے ہمارے آئین، قانون اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونے
چاہئیں اور
آج پاکستانی قوم میں جو اضطراب کی کیفیت ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ
پاکستانی قوم نہیں چاہتی کہ ہمارے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت
ہو،
پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ بیرونی مداخلت نامناسب ہے
چنانچہ" ڈی مارش" کیا جائے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہناتھاکہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ہدایت پر ہم نے
دفتر خارجہ میں سفارت کار کو بلا کر "ڈی مارش" کیا اور واشنگٹن میں بھی
اپنے سفیر کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا، ترکی پاکستان کا دوست برادر ملک ہے جس نے
ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، ترک وزیر خارجہ نے مجھے فون کر کے کہا کہ وہ
پاکستان میں صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہناتھاکہ ہماری حکومت نے ہندوستان سے کہا تھا کہ ہم آپ سے اچھے تعلقات
چاہتے ہیں مگر کشمیریوں کا سودا ہرگز نہیں کریں گے،
فیصلہ پاکستان کی عوام نے کرنا ہے کہ انہیں خوددار، باوقار قیادت چاہیے یا
آنکھیں بند کر کے ہاں میں ہاں ملانے والے چاہئیں؟