معروف ماحولیاتی صحافی شیما صدیقی کا ماحولیاتی خطرات پر اظهار خيال

عمران عمران

معروف ماحولیاتی صحافی  شیما صدیقی کا ماحولیاتی خطرات پر اظهار خيال


کراچی معروف ماحولیاتی صحافی شیما صدیقی نے کہا ہے کہ سطح سمندر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اس لیے مستقبل میں ہمارے ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ ساحلی شہر بشمول کراچی، ڈھاکہ اور دیگر بھی نہیں رہیں گے۔

یہ بات انہوں نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا انعقاد سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز نے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اینڈ کونسلنگ کے تعاون سے ايس ايم آئي يو کے سینیٹ ہال میں پلاسٹک اور ماحولیاتی چیلنجز کے حوالے سے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سمندر کے ذریعے مٹی کا کٹاؤ ہماری زرعی زمینوں اور انسانی زندگیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ نیز انڈس ڈیلٹا سطح سمندر میں اضافے کی وجہ سے ختم رہا ہے۔ اس لیے ہمیں ماحول کو پائیدار بنانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا رہا ہے جس کے نتیجے میں 2050 تک سمندروں میں مچھلی نہیں رہے گی اور وہاں صرف پلاسٹک کے سمندر ہی ہوں گے۔


محترمہ صدیقی نے مزید کہا کہ پلاسٹک کے کھانے کے برتن انسانی اور پلاسٹک کی دیگر اشیا سمندری زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں، اس لیے ہمیں کھانے کے لیے پلاسٹک کے بجائے اسٹیل اور مٹی سے بنے برتن استعمال کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے میں پلاسٹک کے برتنوں کے استعمال کی وجہ سے ہماری صحت میں کینسر، ٹی بی اور دیگر بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں، خاص طور پر ہمارے ملک میں کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ پلاسٹک کے برتنون کے ذرات ہمارے کھانے میں گھل مل جاتے ہیں، جو ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی بھی ہے۔


شیما صدیقی کا خیال تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بالخصوص کووِڈ 19 کے بعد چاروں موسموں آپس میں ملی گئی ہیں، اب سرد موسم اپریل تک برقرار رہتی ہے اور رواں سال ہمیں بہار نظر نہیں آئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ابتدائی بارشیں موسمیاتی تبدیلیوں کا مظہر ہیں۔ ماضی کے برعکس اس سال سندھ، پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں اپریل کے مہینے میں بارشیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل چترال میں بھی برف باری دیکھنے میں آئی تھی، اس لیے یہ بارشیں گندم اور دیگر فصلوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔

محترمہ صدیقی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں نے ہمارے دیہی علاقوں میں ماحولیاتی نظام اور زمینوں اور زندگی کے قدرتی انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔ ہم نے فطرت سے انحراف کیا ہے اور اس کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کاشتکاروں کی اکثریت زرعی زمینوں میں کیمیائی کھادوں کا استعمال کر رہی ہے، جس سے صحت اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ برسوں میں پاکستان میں خاص طور پر اس کے صوبہ سندھ میں بھی شدید سیلاب کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں خوراک کی حفاظت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں ماحول دوست چیزوں کی طرف واپس آنا چاہیے اور پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال ترک کرنا چاہیے جو ہماری زندگیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر ہم دھرتی اور انسانی جانوں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں آگے آنا چاہیے اور عوام میں ماحولیات کے بارے میں بیداری پھیلانی چاہیے۔


قبل ازیں شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کی انچارج چیئرپرسن ڈاکٹر حنا شہناز نے مہمان کا استقبال کیا۔ ایس ایم آئی یو کے شعبہ ماحولیات کے لیکچر جناب خالد حسن نے نظامت کی ۔ سیمینار میں طلباء اور فیکلٹی ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔