تحریک بحالی براء جمھوریت "ایم آر ڈی" 1983 کے شھداء

اسحاق سومرو اسحاق سومرو

تحریک بحالی براء جمھوریت


آج سے چار  دھائی سال پہلے ملک میں جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف اور جمھوریت کی بحالی اور مارشلا کے خاتمے کے لئے ملک کی تقریبن ساری سیاسی جماعتوں نے "تحریک بحالی براء جمھوریت" "ایم آر ڈی" بنائی تھی۔ جو جدید پاکستان کی سب سے بڑی اور منظم جدوجھد تھی۔ جس کی باقائدہ شروعات 14 آگسٹ 1983 سے پوری ملک سے شروع کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کے سربراھان نے اپنی گرفتاریاں پیش کرکے ابتدا کی۔ یہ گرفتاریاں بڑے شھروں کراچی ، لاھور، کوئٹہ اور پشاور سمیت چھوٹے شھروں سے بھی شروع کی گئی۔ یہ گرفتاریاں خاص طور پر سندھ میں بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں پارٹی رھنماؤں اور کارکنوں نے ہر ضلع اور تعلقہ ھیڈکوارٹر میں  دیں۔  چند دنوں میں ھزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنان اور خاص طور پر پاکستان پیپلزپارٹی اور سندھ کے بائیں بازو  کی جماعتوں اور کارکنوں نے جیل بھرو تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ باوجود اخبارات پر سینسر شپ کے ان دنوں میں میڈیا صرف اخبارات پر مشتمل تھی۔ الیکٹرانک میڈیا میں صرف پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو پاکستان تھا۔ زیادہ تر لوگ بی بی سی سنتے تھے۔ اور ھر شام اور صبح کو لوگوں کی بڑی تعداد بی بی سی ریڈیو سننے کے لئے جمع ھوجاتی تھی۔ 

ایم آر ڈی تحریک کے پہلے مرحلے میں گرفتاریاں (جیل بھروتحریک) بڑے بڑے جلوسوں، شاھراہوں پر دھرنے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں، لاٹھی چارج اور آنسوگئس روزانہ کا معمول ھوتا تھا۔ میں نے صحافت کی شروعات باقائدہ 1983 میں ایم آر ڈی کی تحریک کی رپورٹنگ کرنے سے شروع کی تھی۔  تحریک میں کچھ دنوں میں ہی شدت آنا شروع ھوگئی۔ تحریک اور گرفتاریاں دینا روز کا معمول تھا۔ سندھ کے کئی شھروں میں روزانا درجنوں کے تعداد میں لوگ گرفتاریاں دیتے تھے۔ گرفتاریاں دینے والے کارکنوں کی فھرستیں طویل ھوتی جا رھی تھیں۔ کارکنوں کی خواھش ھوتی تھی کے انھیں جلد سے جلد گرفتاری دینے والے جتھے میں شامل کیا جائے۔  14 آگسٹ 1983 سے شروع ھونے والی تحریک میں سندھ کے لیڈرون  نے  بھی گرفتاریاں دیں۔ اور اس کی وجہ سے گرفتاری کے جلوسوں میں پارٹی کارکنوں اور عام آدمیوں کی شمولیت کثیرالتعداد ھوتی تھی۔ تحریک کا مرکز ویسے تو پورے سندھ کے ساری ضلع ھیڈکوارٹر تھے لیکن سب سے زیادہ سرگرم حیدرآباد، ھالا، بدین، نوابشاھ، دادو تھے۔ 

واضح رہے کہ ایم آر ڈی کی 1983 کی تحریک میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے   رھنماءون نے بھی ابتدا میں حصہ لیا تھا۔ ان کی گرفتاریوں کے دوران ان شہروں میں پارٹی کارکنان اور عام شہری ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ پولیس اہلکار بھی غائب ہو جا تے ۔ اور پولیس انہیں گرفتار کرنے سے گریز کرتی  تھی ۔ بعد میں پولیس انہیں رات کو ان کے گھروں سے لے جاتی۔ تحریک کے دوران بہت سے پولیس اہلکاروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی سے انکار کرتے ہوئے اپنی پٹیاں اور بیلٹیں پھینکنا شروع کر دیں جس سے بالخصوص سندھ میں سول نافرمانی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

تحریک کا پھلا پرتشدد تصادم مورو اور نوشھروفیروز میں ھوا۔ اس کے بعد خیرپورناتھن شاھ ضلع دادو میں آدھے درجن کارکنوں کو بیچ شھر میں قانون نافذ کرنے والے احلکاروں نے مار ڈالا۔ جب لوگوں نے مارشلا کے خلاف جدوجھد کو تیز کرنا شروع کیا۔ اور گرفتاری دینے والے جلوسوں میں ھزاروں لوگوں نے شرکت کرنا شروع کیا۔ شھروں کے چھوٹے بڑے جیل اور پولیس تھانوں کے لاکپ چھوٹے  پڑگئے یھاں تک کہ گرفتار کارکنوں کو پولیس کھتی تھی کہ اب آپ اپنے گھر چلے  جائیں صبح کو پھر آجانا۔ ایسی صورتحال کو دیکھتے ھوئے اس تحریک کی قیادت کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی  کے لیڈر غلام مصطفی جتوئی نے جیل سے ایک خط لکھ کر کارکنوں سے  التجا کی کہ تحریک کو بند کرو، مزید گرفتاریاں نہ دو، لیکن پارٹی کے ورکروں  نے اس پر کوئی بھی توجھ نہ دی اور اس تحریک میں مزید تیزی آنے لگی۔ اور اس تحریک کا سب سے بڑا واقع کو آج سے 41 سال پھلے 29 سیپٹمبر 1983 کو سکرنڈ کے قریب قومی شاھراھ پر گاؤں پنھل خان چانڈیو کے سیکڑوں لوگ قومی شاھراھ   نزد سکرنڈ   احتجاج کر رھے تھے۔ جن پر بلاجواز قانون نافذ کرنے والوں نے فائرنگ کر کے 16 لوگوں کو قتل کردیا اور 51 لوگوں کو وہاں سے گرفتار کرلیا۔ وہ سارے گرفتار لوگ زخمی تھے۔ اس جلوس کی قیادت موجودہ صوبائی اسیمبلی کے میمبر اور سابق سینیٹر غلام قادر چانڈیو کے بڑے بھائی اور اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کے رھنما مرحوم غلام عباس چانڈیو اور ان کے والد بزرگ 70 سالہ پنھل خان چانڈیو کر رھے تھے۔ ان کو پھر وہاں سےزخمی حالت میں  گرفتار کیا گیا۔  ان پر ملٹری کورٹ خیرپور میں مقدم چلاکر قیدبامشقت  کی سزائیں دی گئی۔ 

29 سیپٹمبر 1983 کے اس لرزہ خیز واقع کے شھیدوں میں اور غلام مصطفی  اور علی شیر چانڈیو سکرنڈ ھاء اسکول کے چھٹی اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے، حسین بخش منگنھار  گاؤں کے میں شادیوں میں ڈھول بجا کر لوگوں کو خوشیاں دیتا تھا۔ اور شھیدوں  اور زخمیوں میں اکثریت نوجوان پر مشتمل تھی۔  اس دن بی بی سی ریڈیو نے اپنے پھلی خبر اس دن کے واقع کی دی جبکہ ریڈیو پاکستان نے رات آٹھ بجے والی خبروں میں بتایا کہ آج سکرنڈ کے قریب قومی شاھراھ پر شرپسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیاں فائرنگ کا تبادلہ  ھوا جن  میں 16 لوگ مارے گئے جبکہ 51 شرپسندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

ایم آر ڈی تحریک کے دوران گرفتار ھونے والوں میں  صحافی، ادیب، استادزہ بھی شامل تھے جن کو فوجی عدالتوں کے طرف سے کوڑوں کی سزائیں بھی دی گئی۔  تحریک میں  روزانوں کی گرفتاریاں کا سلسلہ ساڈھے تین ما ھ   تک بنا کسی وقفے سے چلتا رھا۔ آج ایم آر ڈی کو بنے ھوئے 40 سال کا عرصہ گذر چکا ھے ملک میں آج بھی لوگ حقیقی جمھوریت کے انتظار میں ھیں۔ جنرل ضیاالحق کے آمرانہ دور کی   کارستانیوں کی وجہ سے آج بھی ملک بھگت رھا ھے۔ افغان جنگ، طالبان،جھاد، کلاشنکوف اور ھیروئن کلچر بھی اس دور کی پیداوار ھیں۔ بظاھر تو ملک میں جمھوریت بحال ھو چکی ھے . ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بی نظیر بھٹو کا قتل  بھی انھی غیر جمھوری اور بنیاد پرست سوچ کا نتیجہ ھے۔  آج جب 29 ستمبر1983 کے اس سکرنڈ کے واقع جس میں کئی لوگوں کو ھلاک اور زخمی کردیا گیا۔ جنھوں نے بحالی جمھوریت کے لئے  خون کا نظرانہ دیا تھا۔  اس ملک کے جمھوریت پسند لوگوں کے لئے مشعلے راھ ھے۔