ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا نفاذ، صدر ٹرمپ کا تاریخی اعلان — مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امید
واشنگٹن/تہران/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ کشیدگی اور خونریز تصادم کے بعد جنگ بندی پر باقاعدہ اتفاق ہو گیا ہے۔ صدر کے مطابق، دونوں ممالک نے ایک ہی وقت پر رابطہ کر کے امن کی خواہش ظاہر کی۔ "میں جانتا تھا کہ وقت آ گیا ہے، دنیا اور مشرق وسطیٰ اس کے اصل فاتح ہیں"، ٹرمپ نے کہا۔
جنگ بندی کا آغاز ایران کی جانب سے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے ہوا جبکہ اسرائیل نے 12 گھنٹے بعد اس پر عمل درآمد شروع کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس امن، خوشحالی اور محبت کی جانب بڑھنے کا سنہری موقع ہے—مگر راستے سے ہٹنے کی صورت میں انہیں بھاری نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر اسرائیل جارحیت بند کرے تو ایران کی بھی جوابی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا، "ہماری بہادر فوج نے دشمن کے ہر وار کا بھرپور جواب دیا۔"
جنگ بندی سے کچھ دیر قبل ایران نے اسرائیل کے شہر بیر شیبہ پر بیلسٹک میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی پیشکش پر جنگ بندی کی توثیق کی، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ "جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔"
ادھر، قطر کی ثالثی نے بھی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی صدر اور قطری امیر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ایران نے رضامندی ظاہر کی۔
پاکستان نے خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
ادھر، ایران کے جوہری سائنسدان محمد رضا صدیقی اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، جبکہ دونوں جانب میڈیا میں سیز فائر کے نفاذ کی متضاد اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ان دنوں کے بعد، اس جنگ بندی کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم خطے میں مکمل سکون اور پائیدار امن کے لیے آئندہ چند روز نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں