سندھ کی تاریخی شناخت اور سیاسی حقیقت: ایک تجزیاتی جائزہ وقار مصطفیٰ کی بی بی سی نیوز اردو کے لیے رپورٹ کے تناظر میں

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سندھ کی تاریخی شناخت اور سیاسی حقیقت: ایک تجزیاتی جائزہ  وقار مصطفیٰ کی بی بی سی نیوز اردو کے لیے رپورٹ کے تناظر میں


انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان کہ پاکستان کا صوبہ سندھ ’تہذیبی طور پر ہمیشہ انڈیا کا حصہ‘ رہا ہے، ایک نئی سفارتی اور تاریخی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس بیان کو ’غیر حقیقی، اشتعال انگیز اور خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ’آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہ ہو، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا... کیا پتا کل کو سندھ پھر سے بھارت میں واپس آ جائے‘۔

تاریخ، سیاسیات اور تہذیب کے ماہرین اس بیان کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں اور سندھ نے ایک آزاد سیاسی اکائی کے طور پر پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیسے کیا، اس کا تجزیہ تاریخی حقائق کی روشنی میں پیش ہے۔

وادیِ سندھ کی تہذیب: مرکزیت اور وسعت

موجودہ صوبہ سندھ کا علاقہ، جو دریائے سندھ کے ڈیلٹا کا حصہ ہے، وہ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا مرکز تھا۔ یہ تہذیب، جس کی نمائندگی موئن جو دڑو اور کوٹ ڈیجی جیسے مقامات کرتے ہیں، تقریباً 2300 قبل مسیح سے 1750 قبل مسیح تک موجود رہی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق، دنیا کی تین اوّلین عظیم تہذیبوں (میسوپوٹیمیا، مصر اور وادیِ سندھ) میں سے یہ تہذیب رقبے کے اعتبار سے سب سے زیادہ وسیع تھی۔ یہ موجودہ پاکستان کے خطے پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب میں موجودہ انڈین صوبوں گجرات، راجستھان اور ہریانہ تک وسعت رکھتی تھی۔

مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ اس تہذیب کا مرکز وہ سارا علاقہ ہے جو اب پاکستان میں واقع ہے، جس میں پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ شامل ہیں۔ مؤرخ اور تاریخ کے استاد ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق، یہ علاقہ تہذیبی طور پر مجتمع ہے اور سندھ کا انڈیا کے ساتھ جا ملنا ’بہت ہی غیر فطری‘ ہوگا۔

سلطنتوں کی آماجگاہ مگر کبھی ’ہندوستان‘ کا مستقل حصہ نہیں

وادی سندھ کی تہذیب کے بعد، تاریخی ریکارڈ میں ایک طویل وقفہ ملتا ہے۔ سندھ پر مختلف سلطنتوں نے حکمرانی کی جن میں (ایرانی) ہخامنشی سلطنت، سکندر اعظم کی فتوحات کے بعد سلوقس اول نیکیٹر اور پھر چندرگپت موریا کی حکومت شامل ہے۔ پہلی صدی مسیح میں کُشان دور میں یہاں بدھ مت نے غلبہ پایا۔ ساتویں صدی تک، برہمن وزیر چچ کی سلطنت میں بدھ مت سب سے غالب مذہب تھا مگر ہندوازم بھی موجود تھا۔

سنہ 711 میں عربوں کی آمد نے برصغیر میں اسلام کے داخلے کی بنیاد رکھی۔ تقریباً دو صدیوں تک سندھ اموی اور عباسی سلطنتوں کے صوبہ ’الِسند‘ کا حصہ رہا۔ بعد ازاں، یہ مغلوں کے زیرِ حکومت رہا۔

ماہر سیاسیات ڈاکٹر امیر علی چانڈیو زور دیتے ہیں کہ تاریخ پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سندھ ’کبھی ہندوستان یا انڈیا کا حصہ نہیں رہا‘۔ اگر مختصر عرصے کے لیے مغل سلطنت نے قبضہ کیا بھی تو سندھی عوام نے بھرپور مزاحمت کی۔ 1843 میں جب برطانوی فوج نے سندھ پر قبضہ کیا، اُس وقت بھی سندھ ایک آزاد ملک تھا، انڈیا کا حصہ نہیں۔ اسے 1847 میں عوام کی خواہشات کے خلاف سازش کے تحت جبرًا بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا۔

سیاسی جدوجہد اور پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ

سندھ نے انگریزوں کے قبضے اور بمبئی پریزیڈنسی میں شمولیت کے خلاف طویل جدوجہد کی، جس میں پارلیمانی اور جمہوری کوششوں کے ساتھ ساتھ حروں کی مسلح تحریک بھی شامل ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے 14 نکات میں سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانوی حکومت نے 1936 میں سندھ کو الگ صوبے کا درجہ دیا۔

پاکستان کے قیام میں سندھ کا کردار کلیدی رہا ہے:

1. قراردادِ پاکستان کی حمایت: 1940 کی قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان) کو سب سے پہلے قبول کرنے والوں میں سندھ کے عوام شامل تھے۔ اس سے پہلے 1938 میں بھی سندھ اسمبلی یہ اعلان کر چکی تھی کہ ’ہم ہندوستان کے ساتھ نہیں رہیں گے‘۔

2. تاریخی قرارداد: 3 مارچ 1943 کو، سندھ اسمبلی نے پاکستان کے حق میں سب سے پہلی قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد شیخ عبدالمجید سندھی نے پیش کی تھی، اور اسے پاس کرانے میں جی ایم سید نے کلیدی کردار ادا کیا۔

3. رضاکارانہ شمولیت: سندھ اسمبلی نے 26 جون 1947 کو خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وہ نئی پاکستان دستور ساز اسمبلی کا حصہ بنے گی۔ یوں سندھ پاکستان میں شامل ہونے والا پہلا صوبہ بنا۔

ڈاکٹر امیر علی چانڈیو واضح کرتے ہیں کہ سندھ، جو ایک آزاد وطن تھا اور انگریزوں کے قبضے میں تھا، رضاکارانہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔ سندھ کے عوام نے کبھی ہندوستان کی بالادستی قبول نہیں کی، اور انڈین کی سامراجی خواہشات آج بھی انھیں قبول نہیں ہیں۔

سیاسی بصیرت یا اشتعال انگیزی؟

دانشور وجاہت مسعود، انڈین وزیر دفاع کے بیان کو غیر ضروری تلخی کا باعث قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کا سفر پرانے مخطوطوں کی روشنی میں آگے نہیں بڑھتا؛ پون صدی قبل ہندوستان تقسیم ہو گیا اور دو قومی ریاستیں قائم ہو گئیں۔ اگر راج ناتھ سنگھ کی منطق درست مانی جائے تو دلی، اَوَدھ اور حیدر آباد دکن بھی مستقبل میں پاکستان کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر کامران کی رائے ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے ’بس ایک پُھلجھڑی چھوڑ دی ہے جس کے پیچھے کوئی علمی گہرائی یا گیرائی نظر نہیں آتی ہے‘۔ ڈاکٹر چانڈیو کے مطابق، یہ بیان ’سراسر سامراجی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے‘۔

نتیجہ:

سندھ کی تاریخی و تہذیبی جڑیں بلاشبہ وسیع وادی سندھ طاس تک پھیلی ہوئی ہیں، لیکن جدید دور میں قوم پرستی اور ریاستوں کی تشکیل کا عمل تاریخی یا تہذیبی حوالوں پر نہیں، بلکہ سیاسی فیصلوں، خودمختاری اور قومی اکائیوں کے مطالبوں پر مبنی رہا ہے۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، سندھ نے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے نہ صرف بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی حاصل کی بلکہ قراردادوں کے ذریعے رضاکارانہ طور پر ایک نئی سیاسی اکائی، پاکستان، میں شمولیت کا فیصلہ بھی کیا۔ لہٰذا، تہذیبی قربت کا حوالہ دے کر علاقائی ملکیت کا دعویٰ کرنا نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت کی سیاسی حقیقتوں اور خودمختاری کے اصولوں سے بھی انحراف ہے۔


تین مارچ 1943 کا وہ تاریخی لمحہ جب سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ سندھ کی سرزمین نے اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کیا تھا، جس طرح ایک بہتا ہوا دریا اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے باوجود، کسی ایک سمت کا انتخاب کرکے سمندر میں جا ملتا ہے، یہ انتخاب سندھ کی آزادی اور پاکستان سے وابستگی کی علامت تھا۔