کراچی کی جیلوں میں ایچ آئی وی کے ایک سو چھپن کیسز موجود


کراچی کی  جیلوں میں ایچ آئی وی کے ایک سو چھپن کیسز موجود

کراچی،نزاہت خان

کراچی کے ضلع وسطی میں ایچ آئی وی کے کیسز کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ شہر کی جیلوں میں بھی ایچ آئی وی کے ایک سو چھپن کیسز موجود ہیں۔ مریضوں کے رہائی کے بعد ان کے علاج کو جاری رکھنے کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکبل ڈزیز کنٹرول سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو خط لکھ دیا ہے۔

ایچ آئی وی کا خاتمہ کرنا ہے تو مرض کو چھپانا نہیں ہے۔ سندھ بھر میں ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس سے متاثرہ 15 ہزار نو سو باون مریض مختلف اضلاع میں رجسٹرڈ ہیں۔ کراچی کے ضلع وسطی میں رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 2 ہزار 725 ہے۔ دوسرا نمبر لاڑکانہ کا ہے جہاں ایچ آئی وی کے 2 ہزار 430 رجسٹرڈ کیسز موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرنجز  کا استعمال  صرف ایچ آئی وی نہیں خون کی دیگر بیماریو ں کا بھی سبب   بن رہا ہے۔

ہر شخص کو سالانہ ساڑھے چار انجکشن لگتے ہیں ڈیٹا کے حساب سے جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہے ایچ آئی وی کے علاوہ دیگر خون کے انفیکشنز پھیلتے ہیں اور پھیل سکتے ہیں اور ان سے بچا جاسکتا ہے

2020 اور 2021 کے دوران سینٹرل جیل اور ملیر جیل میں کی گئی اسکریننگ میں 156 قیدیوں میں بھی ایچ آئی وی مثبت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکبل ڈزیز کنٹرول سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو ان مریضوں کے علاج کے لیے خط لکھا ہے۔۔

 رہائی پانے والے قیدیوں کا ڈیٹا بھی ہم سے شیئر کیا جائے تاکہ جوعلاج  انکا جیل کے اندر ہورہا ہے وہی علاج ہم جس علاقے کا وہ شہری ہے اس علاقے کے آر ٹی سینٹرز میں جاری رکھ سکیں

اعداو شمار کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثر ایک ہزار نو سو انتالیس افراد اب تک جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق محفوظ جنسی تعلقات سمیت محفوظ انتقال خون کے ذریعے بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔