ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے
پنڈورا لیکس میں شامل پاکستانیوں کی چھان بین اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا
مطالبہ کردیا۔ اثاثوں پر مطمئن نہ کرنے کی صورت اثاثے
ضبط کرلئے جائیں۔
پنڈورا لیکس میں 700 پاکستانیوں
کے نام۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم
کو خط ارسال کردیا۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
نے خط میں کہا ہے کہ
پنڈورا لیکس میں موجود 700
پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے طریقہ
کارکی تحقیقات کی جائے۔ایف بی آر ،،،پانامہ اور پنڈورا لیکس میں شامل
افرادکے اثاثے منجمد کرے۔ یہ تمام افراد
تین ماہ میں ایف بی آر کو اثاثوں سے متعلق مطمئن کریں۔ ایسا
نہ کرنے پر ان کے اثاثے ضبط کرلئے
جائیں۔
دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف
سرگرم ادارے نے خط میں لکھا ہے کہ 2016
میں پانامہ پیپرز میں ساڑھے 4 ہزار پاکستانیوں کے نام آئے تھے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں
پانامہ لیکس سے متعلق پٹشنز دائر ہوئیں۔سیکیورٹی ایکسچنج کمیشن آف
پاکستان،اسٹیٹ بینک ،ایف بی آر اور ایف آئی
اے نے تحقیقات کی۔سپریم کورٹ نے چند
پاکستانیوں سے متعلق نوٹس بھی لیا تھا۔