ستر برس قبل آج ہی کے دن پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

عرفان علی عرفان علی

ستر برس قبل آج ہی کے دن پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

آج سولہ  اکتوبر ہے۔۔۔ستر برس قبل آج ہی کے دن پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔لیاقت علی خان قائدِ اعظم کے دیرینہ رفیق کار تھے



پاکستان کے پہلےوزیراعظم اورشہیدملت کالقب پانےوالےنواب زادہ لیاقت علی خان یکم اکتوبراٹھارہ سوپچانوےمیں ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیداہوئے۔۔۔عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔۔۔سنہ انیس سوتئیس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بن گئے اورانیس سوچھبیس میں یوپی کی مجلس قانون ساز کے ممبر کی حیثیت سے منتخب ہو گئے۔


انیس سوچھتیس میں بمبئی میں  آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قائد اعظمؒ نے خود یہ تجویز پیش کی کہ نواب زادہ لیاقت علی خان کو آل انڈیا مسلم لیگ کاتین سال کے لئے اعزازی جنرل سیکرٹری مقرر کیا جائے۔ اس اہم ترین مسند پر فائز ہونا قائد اعظمؒ کے آپ پر اعتماد و یقین کا عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی صلاحیتوں کا آئینہ دار بھی ہے۔۔۔


قیام پاکستان کے بعد آپ کو نوزائیدہ مملکت پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔۔۔آپ نے سولہ اکتوبرانیس سواکیاون کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب شروع ہی کیا تھا کہ آپ قاتلانہ حملےمیں جاں بحق ہوگئے۔۔۔ آپ کی شہادت کے بعد کمپنی باغ راولپنڈی کو لیاقت باغ کا نام دے دیا گیا۔