خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کی شناخت اور تقسیم: ایک سماجی جائزہ

عدنان اطہر عدنان اطہر

خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کی شناخت اور تقسیم: ایک سماجی جائزہ


عالمی تقسیم: امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خامنہ ای کی شہادت پر عالمی ردعمل تقسیم کا شکار ہے، جہاں مغربی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی مذاکرات کی وکالت کرتے ہیں جبکہ سعودی عرب اور جی سی سی ایرانی جوابی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اور چین حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

اسرائیل کا جارحانہ موقف: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایکس پر حملوں کو "طاغوت کا خاتمہ" قرار دیا اور ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل کی، جو علاقائی تناؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

چین کی مذمت: چین کی وزارت خارجہ نے حملوں کو ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جو بیجنگ کی ایران نواز پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

یورپی تحفظات: فرانس کے صدر میکرون نے ایکس پر تشویش کا اظہار کیا اور ایرانی حکومت کی مذمت کی، جبکہ جرمنی نے ایران سے جوابی حملے روکنے اور مذاکرات کی اپیل کی، جو یورپی یونین کی استحکام کی کوششوں کا عکس ہے۔

- خلیجی ریاستیں: سعودی عرب نے ایرانی حملوں کی مذمت کی اور جی سی سی کی مشترکہ مذمت کی، جو خلیجی ممالک کی امریکہ نواز پوزیشن کو نمایاں کرتا ہے۔



 رویوں کا جائزہ

عالمی اور بڑے ممالک کا رویہ ایران جنگ کے بعد شدید پولرائزڈ ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی حملوں کو جائز دفاع قرار دیتے ہیں، جبکہ چین اور روس (اگرچہ ایکس پر دستیاب نہ ہو) حملوں کو جارحیت کہتے ہیں۔ ایکس پر آفیشل بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر ممالک استحکام اور مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، لیکن ایرانی جوابی کارروائیوں کی مذمت بھی عام ہے۔


 ممکنہ اثرات

یہ ردعمل علاقائی تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ایران کی جانب سے مزید حملے ہوں۔ خلیجی ممالک کی مذمت ایران کی علاقائی الگ تھلگ کو بڑھاتی ہے، جبکہ یورپی اپیلز اقوام متحدہ کی مداخلت کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔



 اسرائیل کا موقف: فتح اور مسلسل کارروائی

اسرائیلی وزیراعظم کے آفیشل اکاؤنٹ @IsraeliPM سے متعدد پوسٹس سامنے آئیں جو حملوں کو "تاریخی" اور "طاغوت کا خاتمہ" قرار دیتی ہیں۔ ایک پوسٹ میں نیتن یاہو نے کہا: "ہم نے طاغوت خامنہ ای اور درجنوں سینئر شخصیات کو ختم کر دیا ہے۔ ہماری فورسز اب تہران کے دل میں شدت سے حملے کر رہی ہیں، جو آئندہ دنوں میں مزید بڑھیں گی۔" یہ بیان اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل بھی کرتا ہے۔ ایک اور پوسٹ میں ایرانیوں کو "تاریخی موقع" کہا گیا کہ وہ "ظالمانہ حکومت" کا خاتمہ کریں۔ یہ رویہ علاقائی غلبہ کی کوششوں کا عکس ہے اور تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔


 چین کا موقف: شدید مذمت اور جنگ بندی کی اپیل

چین کی وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ @MFA_China نے حملوں کو "ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیا اور "اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی" کہا۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا: "حملہ اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت ایران کی خودمختاری اور سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چین اس کی شدید مذمت کرتا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔" یہ بیان بیجنگ کی ایران نواز پالیسی کو اجاگر کرتا ہے، جو علاقائی استحکام پر زور دیتا ہے۔ چین کی اپیل مشرق وسطیٰ میں اپنے معاشی مفادات کی حفاظت کی کوشش ہے، جہاں وہ تیل اور تجارت پر انحصار کرتا ہے۔


فرانس کا موقف: تشویش اور مذاکرات کی وکالت

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اکاؤنٹ @EmmanuelMacron نے ایک تفصیلی پوسٹ میں جنگ کو "عالمی امن کے لیے سنگین" قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا: "امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ عالمی امن اور سیکیورٹی کے لیے سنگین نتائج رکھتی ہے۔ ایرانی حکومت کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہیے۔" میکرون نے ایرانی حکومت کی "قتل عام" کی مذمت کی اور عوام کو "آزاد مستقبل" کی اپیل کی۔ یہ رویہ فرانس کی یورپی یونین میں کردار کو ظاہر کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ کا مطالبہ کرتا ہے۔


 جرمنی کا موقف: ایران پر دباؤ اور مذاکراتی حل

جرمنی کے چانسلر کے اکاؤنٹ @Bundeskanzler نے ایران سے "اسرائیل اور علاقائی شراکت داروں پر حملے روکنے" کی اپیل کی۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا: "ایران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنا چاہیے اور علاقائی عدم استحکام ختم کرنا چاہیے۔" جرمنی نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کی مذمت کی اور مذاکرات کی وکالت کی۔ یہ بیان یورپی ممالک کی مشترکہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو امریکہ کی کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتا بلکہ ایران پر دباؤ ڈالتا ہے۔


 سعودی عرب کا موقف: ایرانی جارحیت کی مذمت

سعودی وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ @KSAmofaEN نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی، خاص طور پر عمان پر حملے کو "بلاجواز جارحیت" قرار دیا۔ ایک پوسٹ میں جی سی سی کی مشترکہ مذمت کا حوالہ دیا گیا: "سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی۔" سعودی عرب نے جی سی سی کی میٹنگ کا انعقاد کیا اور علاقائی سیکیورٹی کی حفاظت کا عزم ظاہر کیا۔ یہ رویہ سعودی عرب کی امریکہ نواز پالیسی کو اجاگر کرتا ہے، جو ایرانی اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش ہے۔


دیگر ممالک کا رویہ: خاموشی اور محدود بیانات

بہت سے ممالک جیسے امریکہ (@POTUS)، روس (@KremlinRussia_E)، بھارت (@narendramodi) اور پاکستان (@PakPMO) کے آفیشل اکاؤنٹس سے 28 فروری 2026 کے بعد کوئی متعلقہ پوسٹ نہیں ملی۔ تاہم، ویب ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر خامنہ ای کو "شیطانی شخص" کہا، جبکہ پوٹن نے مذمت کی۔ یہ خاموشی سیاسی احتیاط کو ظاہر کرتی ہے۔


 تجزیاتی جائزہ

ایکس بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی رویہ شیعہ-سنی اور مغربی-مشرقی لائنوں پر تقسیم ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ممالک حملوں کو "انصاف" قرار دیتے ہیں، جو ایران مخالف اتحاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ چین اور یورپی ممالک مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کی مداخلت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ یہ تقسیم جنگ کو طول دے سکتی ہے، خاص طور پر اگر حزب اللہ یا حوثی شامل ہوں۔ مجموعی طور پر، استحکام کی اپیلز غالب ہیں، لیکن عملی اقدامات کی کمی تناؤ کو برقرار رکھے گی۔


| ملک | آفیشل اکاؤنٹ | کلیدی بیان | رویہ کا خلاصہ |

|-----|---------------|------------|---------------|

| اسرائیل | @IsraeliPM | طاغوت کا خاتمہ، حملے جاری | جارحانہ، فتح مندانہ |

| چین | @MFA_China | خودمختاری کی خلاف ورزی، جنگ بندی | مذمتی، ایران نواز |

| فرانس | @EmmanuelMacron | تشویش، مذاکرات، UNSC میٹنگ | تشویش زدہ، مذاکراتی |

| جرمنی | @Bundeskanzler | حملے روکو، جوہری پروگرام ختم کرو | دباؤ آمیز، مذاکراتی |

| سعودی عرب | @KSAmofaEN | ایرانی جارحیت کی مذمت، جی سی سی اتحاد | مذمتی، علاقائی سیکیورٹی پر زور |