ایک نا مکمل پوسٹ


ایک نا مکمل پوسٹ


اعجاز منگی

میں نے دلیپ کمار کو روبرو نہیں دیکھا تھا

مگر میں ان عورتوں سے ضرور ملا تھا

جنہوں نے اپنے بیٹوں کا نام

”یوسف خان“ اور ”دلیپ کمار“ رکھا تھا

امتیاز بیگم اور آرتی جیسی حسین عورتیں 

ان کی مداح تھیں اور ان سے مل کر 

مجھے احمد فراز کا یہ شعر یاد آیا تھا

”اور تم کو کتنی محبتیں چاہئیے فراز

ماؤں نے تیرا نام بیٹوں پہ رکھ دیا“

وہ عورتیں مدھوبالا سے ذرا کم مگر

سائرہ بانو سےزياده حسین تھیں 

اور ان کے بیٹے دلیپ کمار سے 

کہیں کم پرکشش نہ تھے!!!!!

دلیپ کمار ایک صدی سے دو برس کم جیے

اور اس کو موت سے دور سائرہ بانو نے

کچھ اس طرح رکھا جس طرح

سحر نے امداد حسینی کو!

دلیپ کمار کتنے بڑے اداکار تھے؟

اس کا جواب دیوداس اورکرانتی جیسی فلمیں ہیں 

میں ان کے بارے میں بہت کم جانتا ہوں 

آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہونگے

مگر مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ

وہ کردار کی کہانی میں ڈوب جاتے تھے

اور وہ اردو کی مشکل شاعری 

رسول بخش اور میری طرح

روانی سے گنگناتے تھے!!

وہ صرف مدھو بالا جیسی عورت کے عاشق نہیں 

عاشقوں کے عاشق بھی تھے

فیض احمد فیض سے ان کی محبت ان کی ترقی پسندی

اور انتہائی باذوق ہونے کا ثبوت ہے۔

دلیپ کمار کی موت پر مجھے صرف اس بات کا دکھ ہے

کہ ایسے ہیرو کو اتنا بوڑھا ہووکر نہیں 

بھرپور جوانی میں مرنا چاہئیے تھا

اس طرح جس طرح وہ دیوداس میں مرا!

دلیپ کمار شاید شراب نہیں پیتے تھے

مگر ان کے چہرے پر

ایک ایسی اداسی کی پرچھائیں تھی

جو صرف گمنام شرابی شاعروں کے 

چہروں پر چمکتی ہے

شرت چندر چیٹرجی کے ناول کو

یوسف خان نے کتنی بار پیا تھا

کاش! میں یہ جان سکتا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(نامکمل)