دکھی انسانیت کے مسیحا، ہزاروں یتیموں کے والد،بے سہاروں کا سہارا، بابائے خدمت، فخر پاکستان اور ایدھی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے بانی عبدالستار ایدھی کوہم سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے .
عبدالستارایدھی نےزندگی میں کئی چیلنجز کاسامنا کیا مگران کی صاف نیت اور مستقل مزاجی نے انہیں ہرمیدان میں بینظیر کامیابی سے ہمکنارکیا۔
قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کرنے والے عبدالستار ایدھی نے 1951 میں ایک چھوٹے کمرے سے دکھی انسانیت کی خدمت کا آغاز کیا۔۔۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی تو۔۔ لاوارث بچوں اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کو سہارا مل گیا۔۔
ایدھی کی ایمبیولنس سروس نے بڑے سانحات سے لیکر چھوٹے حادثات میں انسانی خدمت کی وہ مثالیں پیش کی ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
عبدالستار ایدھی نے سماج کی خدمت کا جذبہ خود تک محدود نہیں رکھا۔ اسے آئندہ نسل تک منتقل کیا۔
عبد الستار ایدھی 8 جولائی کو دنیا سے رخصت ہوئے تو ایدھی
ولیج میں کھڑے لاوارث بچوں کی زبان پر بے ساختہ آیا کہ ہم ایک بار پھر یتیم ہوگئے۔