قوم یہ نہیں بھولے گی نہ انہیں معاف کریگی، وزیراعظم

عرفان علی عرفان علی

قوم یہ نہیں بھولے گی نہ انہیں معاف کریگی، وزیراعظم

 وزیر اعظم  عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں چاہتا ہوں اس سے پہلے دل کی باتیں کر لوں،میری طرح کا آدمی سیاست میں کیوں آیا،اب زیادہ تر لوگوں کے سیاست میں آنے سے پہلے انہیں کوئی نہیں جانتا تھا,مجھے اللہ نے سب کچھ دے دیا تھا، آج بھی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، 
ان کا کہناتھاکہ خوداری ایک آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے،قائد اعظم کی برصغیر میں بہت اہمیت تھی، قائد اعظم کی برصغیر میں بہت اہمیت تھی،پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا،ہمیں ایک اسلامی ریاست بننا تھا اورجہاں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں،
وزیر اعظم کا کہناتھاکہ 14 سال تک تو میرا مذاق اڑتا رہا،لوگ مجھے پوچھتے تھے اپ کو ضرورت کیا تھی سیاست میں آنے کی،مجھے یاد ہے جب پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں،وسطی ایشیا سے لوگ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آتے تھے اور شاہین تب اوپر جاتا ہے جب وہ مقابلہ کرتا ہے۔
ان کا کہناتھاکہ میں اپنے اس مؤقف سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹا،فیصلہ کیا کہ خارجہ پالیسی ایسی ہو گی جس سے عوام کو فائدہ ہو گا اورامریکا کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، برطانیہ میرے دوسرے گھر کی طرح ہے،عمران خان کا کہناتھاکہ سوویت یونین کی افغانستان میں جنگ دو سال جاری رہی،اس کے کچھ عرصہ بعد امریکا نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں، ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اورقبائلی علاقے کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں اوراس جنگ میں قبائلی علاقے میں کتنے ہی لوگ مارے گئے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ باجوڑ میں ڈرون حملے میں مدرسے کے 80 بچے مار دیئے گئے،مجھے طالبان خان کا خطاب دیا گیا، یہ ڈرے ہوئے تھے کہیں امریکا نہ ناراض ہو جائے،یہ ڈرے ہوئے تھے کہیں امریکا نہ ناراض ہو جائے،کہا تھا ہم ایسی کوئی خارجہ پالیسی نہیں بنائیں گے جس سے ہمارے لوگوں کو نقصان ہو اوربھارت نے کشمیر کا اسٹیٹس بدل کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور7 مارچ کو ہمیں کسی ملک سے ایک میسیج آیا، اس پیغام میں عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی اس کا ذکر تھا۔
ان کا کہناتھاکہ 400 ڈرون حملوں کی کسی نے ایک بار بھی مذمت نہیں کی، اس لئے ان کو یہ لوگ پسند ہیں