پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہناہےکہ اگر رولنگ
چیک نہیں ہوسکتی تو پھر اس کے حملے خوفناک ہیں
اور عدالتیں نیوٹرل ہوتیں ہیں بہر الحال اب اس پٹی سے باہر نکلنا ہوگا
ان کا کہناتھاکہ اب سیو اٹ، اور ویو اٹ کا وقت ہے اور سفارتکاری میں
خط وکتابت عام زبان میں نہیں کوڈڈ ہوتیں ہیں اور سفارتکاری کی زبان کو کوڈڈ اس لیے
کیا جاتا یے کوئی غیر متعلقہ شخص اس کو پڑھ نہ سکے۔
قمر زمان کائرہ نے کہاکہ انہوں نے کسی جونیئر سے اپنی مرضی کے مطابق
خط کو ڈی کوڈڈ کیا اور پاکستان پر سونامی آیا ہے، عدالت ہی بچائے تو بچائے،چوہدری
سرور اور علیم خان نہیں، ایک وزیر بولے گا۔
ابھی نام آنے شروع ہوئے ہیں، دیکھیے آگے آگے کیا ہوتا ہے،ایک دن کی
کال پر لوگ اکٹھے کر سکتے ہیں، لیکن ابھی کس کے خلاف کرنا ہے، آج جو بات کر رہا
ہے احتجاج کی وہ عدالتوں کے خلاف ہوگا،یا اسمبلی کے سارے ارکان غدار، ہیں یا اسپیکر
غلط ہیں عمران خان واقعی پاکستان میں سونامی لائے ہیں،اس سونامی سے سپریم کورٹ ہی
نکالے گی
ان کا کہناتھاکہ اس خاتون کا جانا کوئی مسئلہ نہیں لیکن دیکھنا ہوگا
اس کے سورس چیف منسٹر ہیں یا چیف ایگزیکٹیو ہیں ابھی تو علیم خان اور چوہدری سرور
بولے ہیں اور بھی بڑے نام آئیں گے اورمعاملہ عدالت، میں احتجاج کرنے والے، عدالت
پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں