اینٹی کرپشن
عدالت نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کے خلاف
محکمہ اینٹی کرپشن کا کیس خارج کردیا۔
حلیم عادل شیخ
کا کہنا تھا آج حق کی فتح ہوئی ۔ جو بک نہیں سکتا ، اس کے خلاف مقدمات بنائے جاتے
ہیں۔
اینٹی کرپشن
ملیرکے قائم نئے مقدمہ میں اپوزیشن لیڈرحلیم
عادل شیخ کوبکتر بند گاڑی میں صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ پہنچایا گیا۔
محکمہ اینٹی
کرپشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ حلیم عادل
شیخ نے چارایکڑزمین پرقبضہ کیا۔
منشی، تپیداراور دیگر ریونیوافسران
کی ملی بھگت سےجعلی انٹریاںکرائیں۔
انیس سو اکیانوے
میں پولٹری فارم کی مدمیں لی گئی زمین پرزرعی بینک سے قرض لیا ۔
تفتیشی افسر نےموقف اپنایا
کہ ملزم نےپولٹری فارم کی زمین پررہائشی
اسکیم بنادی ۔
ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش کی جاسکے۔
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ چار ایکڑ زمین کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر
سماعت ہے۔
دوہزار انیس
سے کیس میں حکم امتناع ہے۔
تین مقدمات
مزید درج کررکھے ہیں ۔یہاں سے نکلیں گے کسی اور کیس میں گرفتار کرلیں گے ۔
عدالت نے حلیم عادل شیخ کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کا کیس خارج کر دیا ۔
احاطہ عدالت
میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ
عدالتوں رپر بھروسہ ہے۔
جو بک نہیں سکتا ، اس کے
خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں۔