ڈالر دوسو روپے سے نیچے آجائے گا ۔

نزاہت خان نزاہت خان

ڈالر دوسو روپے سے نیچے آجائے گا ۔

                                                                                                                   

ڈالر دوسو روپے سے نیچے آجائے گا ۔

 نئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار  کے بیان نے ہلچل مچادی۔ماہرین کہتےہیں کہ ایسے بیانات سے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اہم منصب پر بیٹھے شخص کو ڈالر کی قیمت سے متعلق بیان نہیں دینا چاہیے

ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤنہ صرف معاشی اعداد شمارکو ہلا کررکھ دیتا ہے،،

 ساتھ ہی مہنگائی کی شرح میں غیرمتوازن اضافے کا بھی سبب بنتا ہے۔ اتحادی حکومت  کے نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے   اس بیان نے کہ  ڈالر 200 روپے کی سطح سے نیچے آنے والا ہے،،،

 اسٹاک ایکسچینج سمیت بینکنگ اور آئل سیکٹر میں ہلچل مچادی ۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں اس قسم کے بیانات افواہوں کو جنم دیتے ہیں اور اس سے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رئیل ایفکٹیوایکسچینج ریٹ توابھی 94 پچانوےپرچل رہا ہےاسکا مطلب ہےہم انڈوویلیوہیں اسکا مطلب ہےکہ مزید روپیہ کومستحکم ہونا چاہئیے،، اورجوپریکٹکل بات ہےکہ جوامپورٹ ایکسپورٹ کےجوایشوچل رہےہیں ابھی امپورٹ ہونےنہیں دیا جارہا ہے،، رامٹیریل کیلئےبھی روکا گیا ہے،،کچھ آٹوکیلئےتورکنا چاہئیےمشینری کیلئےتوروکا گیا ہےصحیح ہےتوابھی ہمیں مینج کرنا ہےکرنٹ اکاؤںت خسارہ اگرمینج ہوجاتا ہے، چارسوپانچ سوملین ڈالرپراگرآجاتا

ماہرین کہتے ہیں کہ  وزیر خزانہ کے منصب  پر بیٹھے شخص کو   ڈالر کی  قیمت کے تعین سے متعلق بیان نہیں دینا چاہیے۔۔

اس قسم کی یہ پرپراڈکشن نہیں ہونی چاہیئےکہ سبھی جانتےہیں کسطرح سےمارکیٹ کام کرتا ہے،، اب یہ کہ یہ فورکاسٹ کرنا مارکیٹ کوڈسٹرب کرنےوالی بات ہے،، امید یہ کرتےہیں کہ استحکام آئیگا،، وہ پہلےضروری ہےمہنگائی کوکنٹرول کرنا بہت ضروری ہے،، چیریں جونایاب ہوتی جارہی ہیں اسکی موجودگی ضروری ہےڈالرکی بات توبعد میں آتی ہے

ایک ایسا ڈیٹا کمپائل ہونا چاہےکرنسی کمپنی سےلیکراسٹیٹ بینک تک خریداری اوربیچ کون رہا ہے،،

 دیکھیں میں تویہ کہونگا کہ ڈارصاحب کوچاہئیےکہ جوبھی امپورٹ ہورہی ہےاسکو الاوکردیں اورٹریول کیلئےدیں اسکےعلاوہ اوپن مارکیٹ میں ڈالرالاوہی نہ کریں

اتحادی حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ڈالر 44 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔