کراچی میں ظلم کی انتہا ہوگئی۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں ظلم کی انتہا ہوگئی۔

معاشرے میں عدم برداشت کا بڑھتا رجحان۔۔۔کراچی مچھر کالونی میں ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین نے بچے سے ایڈریس معلوم کرنا چاہا تو علاقہ مکین انہیں اغواء کار سمجھ بیٹھے۔


بہیمانہ تشدد کرکے دونوں  کو مار ڈالا۔

گاڑی کو  بھی آگ لگادی۔پولیس  نے   دو ملزموں کو گرفتار کرکے دیگر کی تلاش شروع کردی۔

کراچی میں ظلم کی انتہا ہوگئی۔

 پسماندہ علاقے  مچھر کالونی میں موبائل فون ٹاور پر سگنلز سسٹم کے معائنے کے لئے آنے والے ٹیلی کام کمپنی کے دو ملازمین کو انسانیت سوز تشدد کرکے قتل کردیا گیا ۔

مشتعل علاقہ مکینوں کے غضب کا نشانہ بننے والے کار سوار افراد نے مبینہ طور پر  بچے سے پتہ معلوم کرنا چاہا تو اہل محلہ نے اغواء کار کا الزام لگا کر ان کا گھیراؤ کرلیا ۔


بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے کار سواروں میں ایک کمپنی کا  ڈرائیور اسحاق پنہور اور دوسرا ٹیلی کام انجینئر ایمن جاوید تھا، مشتعل افراد نے  گاڑی کو بھی آگ لگادی۔

جو سامنے آئے ہیں حقائق اس میں یہ لگتا ہے یہ کسی ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین تھے سگنل چیک کرنے آئے تھے یہ سلم ایریا ہے اچانک یہ افواہ پھیلائی گئی کہ بچوں کو اغوا کرنے آئے تھے اور ماردئے گئےاب ہم اس کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کیا وجوہات ہیں

تشدد سے جان گنوانے والا  اسحاق تین بچوں کا باپ  تھا  جبکہ ٹیلی کام انجینئر  ایمن جاوید کی  کچھ  عرصہ بعد شادی ہونا تھی۔غمزدہ لواحقین   نےانصاف کا مطالبہ کردیا

 ٹیلی کام کمپنی کے ملازم تھے، سگنل کے ڈی فورس کو سیٹ کرنے ہیں ،شکایت تھی پتہ پوچھنے رکے تو ایک صاحب نے الزام لگایا  بچے اغواکرنے والے ہیں  سب نے مارا انتقال کرگئے

کبھی کیڑے کو نہیں مارا دو بیٹیاں ہیں ایک بیٹی ابھی ہوئی ہے راستہ پوچھ رہے تھے اغوا تھوڑی کررہے تھے آپ ڈیڈ باڈی دیکھیں ڈر جائیں گے

پوسٹ مارٹم میں  معلوم ہواکہ دونوں افراد کے جسم کی کئی ہڈیا ں  ٹوٹ گئی تھیں اور جسموں پر آنے والی شدید چوٹیں موت کا سب بنیں،پولیس  کا دعویٰ ہے کہ  تشدد میں ملوث دو مرکزی ملزموں کو گرفتار جبکہ 8 مزید افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جنہیں جلد گرفتارکرلیا جائے گا ۔ 

تفتیشی حکام کےدعویٰ 

کراچی میں جمعہ کومچھرکالونی میں علاقہ مکینوں کےبہیمانہ تشددسےجاں بحق ٹیلی کام کمپنی کےدوملازمین کےقتل کی تحقیقات جاری ہیں۔

تفتیشی حکام کےمطابق دونوں مقتولین پرحملہ کرنےسےپہلےتقریبا آدھاگھنٹہ یرغمال رکھا گیا۔

مشتعل مکین کو سروس کارڈ دیکھایا گیا لیکن انہیں پڑھنا نہیں آیا۔

 

افسوسناک واقعے کیخلاف کراچی پریس کلب کےباہراحتجاجی مظاہرہ بھی کیاگیا۔

کراچی کے علاقے مچھرکالونی میں علاقہ مکینوں کےتشددسےٹیلی کام کمپنی کےنمائندوں کےہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔

قتل کے واقعے کیخلاف کراچی پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرہ بھی کیاگیا۔

احتجاجی مظاہرین نےقاتلوں کے خلاف موثر کاروائی کی اپیل کی۔

مظاہرین نےکہاکہ فوٹیج میں  متعدد افراد بیمانہ تشدد کرتےنظرآرہےہیں لیکن پولیس نےاب تک چندافرادکوہی گرفتارکیاہے۔

مظاہرین کاکہناتھاکہ دونوں افراد کمپنی کی جانب سے علاقہ میں نصب ٹاور کےوزٹ کےلیےگئے تھے۔

تفتیشی حکام کےدعویٰ ہےکہ  مقتولین کےپاس موجود فرسٹ ایڈباکس اغواکارہونےکےشک کی وجہ بنا۔

تشددکرنےوالاہجوم بضدتھاکہ  فرسٹ ایڈ باکس میں پائوڈین،سمیت خون روکنےکےسامان اوربلیڈ بچوں کےاعضانکالنےکے لئےرکھاگیاہے ۔

تحقیقاتی حکام ےکمطابق دونوں مقتولین پرحملہ کرنےسےپہلےتقریبا آدھےگھنٹے یرغمال رکھاگیا اس دوران  اس دوران مشتعل افراد کو سروس کارڈ دیکھایا گیا لیکن انہیں پڑھنا نہیں آتاتھا۔تفتیشی افسران کے مطابق ویڈیوز کی مدد سے واقعے میں ملوث ملزمان کی  شناخت کاسلسلہ جاری ہے۔

 

 

 پریس کلب کے باہر ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین سراپا احتجاج

مچھر کالونی میں علاقہ مکینوں کےتشدد سے دوافرادکےقتل کامعاملہ

کراچی پریس کلب کے باہر ملزمان کی گرفتارکےلیےاحتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ملزمان کی جلد گرفتاری کے نعرے درج تھے۔

پریس کلب کے باہر ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین سراپا احتجاج رہے احتجاج کے دوران مظاہرین کے آنکھیں اشکبار تھیں۔ 

ٹھٹھہ میں سندھ ترقی پسند پارٹی کی طرف کراچی مچھر کالونی میں تشدد سے بے گناہ مارے جانے والے دو نوجوانوں کے لئے احتجاجی مظاہروں اور دھرنے کا اعلان کردیا

 

سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی رہنما امتیاز سموں، سید جلال شاہ راجو قریشی، سول سوسائٹی کے نمائیندے سلمان جاکھرو ، اعجازِ جاکھرو،کے ساتھ مرحوم ایمن سعید کے والد کے ساتھ ایک ہنگامی پریس کانفرینس کرتے ہوئے سندھ حکومت کو الٹی میڈم دیا ہے کہ دونوں مقتولین کے قاتلوں کے چہرے بار بار سوشل میڈیا پر ارہے ہیں  ان کو فوری گرفتار کیا جائے انہوں نے کہا کہ

اس علاقے کے ایس ایس پی کا گھر واقع سے چند گز کے فاصلے پر ہے پھر بھی دونوں نوجوانوں پر ایک گھنٹے تک تشدد ہوتا رہا ان کو پتا نہیں چلا،

 اس تمام واقع کی زمہ دار سندھ حکومت اور مقامی پولیس ہے اس کے علاوہ اس ٹیلی کام  ادارے کو بھی تفتیش میں کرنا چاہئے ہے

 جس میں دونوں نوجوان ملازمت کرتے تھے کیونکہ اتنا بڑا واقع ہونے کے باوجود وہ کسی قسم کا ردعمل نہیں  دیکھا رہے ہیں امتیاز سموں نے کہا کہ ہمارا احتجاج کل سے شروع یے اور کل دن کو گیارہ بجے سیدھی سینٹر سے سندھ ترقی پسند پارٹی ایک احتجاجی ریلی نکال رہی ہے

جس میں ہم ٹھٹھہ کے تمام معزیزین، تاجر برادری سماجی تنظیموں اور دگر تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ظلم کے خلاف احتجاج رکارڈ کرائیں ،

 انہوں نے کہا کہ یہ قتل ایک تسلسل ہے کہ باہر کے لوگوں کو سندھ میں پناہ دیکر مختلف جواز بنا کر مقامی لوگوں کا قتل عام کیا جارہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی کے سربراہ نوشہرو فیروز کے شہید اسحاق پنھور کے ورثہ سے رابطہ میں ہیں

 سندھ ترقی پسند پارٹی ٹھٹھہ کے صدر سید جلال شاہ نے کہا اگر حکومت نے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا تو پورے سندھ میں احتجاجی تحریک شروع کردی جائے گی انہوں نے ٹھٹھہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کل کے احتجاجی مظاہرے میں ضرور شریک ہوں