لاہور کے لیبرٹی چوک پر اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا،


لاہور کے لیبرٹی چوک پر اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا،


عرفان علی

لاہور کے لیبرٹی چوک پر اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، مظاہرے میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد شریک تھی، مظاہرین نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ہمارے معاشرے میں جس کے ساتھ ظلم یا ذیاتی کا واقعہ پیش آتاہے بجائے اسکے  اس کا ساتھ دینا چاہئے کسی مظلوم کا ہمارے معاشرے کے لوگ ظلم اور ذیادتی کا نشانہ بننے والے اس فرد کےخلاف انگلیاں اٹھاتے ہیں جو ایک بےحس معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر ہے ، کسی کے درد کو تکلیف کو رنج کو سمجھنے کے بجائے اپنی دقیانوسی رائے دینا شروع کردیتے ہیں  یہ عمل اس معاشرے میں اب کسی طور پر بھی قابل برداشت نہیں ہے ، سچ کو سچ اور حق کو حق ماننے کی ضرورت ہے۔


مظاہرین نے حکومت پر بھی شدید تنقید کی ہے اور کہاہےکہ ان کا کام ہے کہ جس کے ساتھ ظلم ہواہے اس کو انصاف دلائے، نہ صرف نور مقدم بلکہ اس جیسی کئی بچیاں خواتین جو ظلم و ذیادتی کا شکار ہوئی ہیں ان کا ساتھ دینا چاہیے ان  کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا گیا اس احتجاج میں اس کے علاوہ مختلف ٹیبلو ایٹمز بھی پیش کئے گئے ۔ اس موقع پر عورت مارچ کی منتظمین اور آر گنائزرحبا کا کہناتھاکہ  نسل درنسل ہمیں جدوجہد کرنی چاہیے اور ہم جدوجہد کررہے ہیں ہم سے پہلے بھی لوگ اسی طرح جدوجہد کرتے آئے ہیں جب تک انسان ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا نہیں ہوگا آواز بلند نہیں کرے گا انصاف کیسے ملے گا آواز اٹھانے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ضروری ہے  ہمارے اس احتجاج منعقد کرنے کا مقصد صرف نور مقدم کو انصاف صرف نہیں دلانا ہے بلکہ ان  سب کو انصاف فراہم کرانا ہے جن کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔


ہمارا یہ احتجاج ان تمام کیسسز کے لیے ہے جو اخبارات ، ٹی وی ریڈیو تک پہنچتے ہی نہیں ہے خواجہ سرائوں کے ساتھ ذیادیتی کے واقعات پیش آتے ہیں جو اب تک اخباروں اور چینلز پر چلانامعیوب سمجھا جاتاہے۔یہ احتجاج ان سب جاننے اورنہ جاننے والی بہنوں کے نام ہے جن کے ساتھ بہت غلط ہواہے۔یہ صرف قرۃ العین ، نورمقدم ، صبور کے بارے میں نہیں ہے اور صائمہ ، خدیجہ صدیقی کے بارے میں نہیں ہے یہ احتجاج ان تمام لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم سہاہے ہم جب تک معاشرے کی سوچ تبدیل نہیں کرتے ہمارا احتجاج تب تک جاری وساری رہےگا۔


ریپ قتل کے خلاف یہ صرف لاہورنہیں بلکہ ہر جگہ احتجاج کیا جارہاہے

احتجاج میں شریک ایک ماں کا کہنا تھاکہ ہمارے معاشرے میں عورت غیر محٖفوظ ہے، بجائے اس کے لڑکیوں کے کپڑوں کی باتیں کرے بلکہ لڑکوں کی تربیت کی ضرورت ہے جس طرح نشہ تیزی سے پھیل رہاہے وہ غلط ہے وہ نشہ عورت نہیں کرتی مرد اور بچے کرتےہیں ، سیاسی ، سماجی اور دیگر لیول پر جو تبدیلیاں آرہی ہے وہ انتہائی غیر مناسب ہے۔ اسی کےمنفی اثرات معاشرے پر پڑرہے ہیں۔ ایک پوسٹر پر لکھا تھا انصاف دو انصاف دو جب ان سے  چہرہ نے پوچھا کہ یہ پوسٹر بنانے کی آپ کو کیوں ضرورت پیش آئی تو ان کا کہناتھاکہ اس پوسٹر بنانے کی ضرورت پڑنی نہیں چاہیے تھی اس عورت کو اس طرح قتل نہیں ہونا چاہیے، اس طرح کے واقعات کو دیکھ کر افسوس ہوتاہے ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں۔

مظاہرین نےقاتل  کو سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ہمارے ملک میں قانون ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہورہاہے جس کے دل میں جو آتاہے کرتاہے بے خوف وخطر جس کا جو دل چاہ رہاہے کررہاہے۔

 

لاہور کے اس احتجاج نے حکومتی نمائندون پر سخت تنقید کی ۔


مظاہرین کا کہنا تھاکہ ہمارے اس معاشرے میں عورت سڑک پر بھی محفوظ نہیں ہے۔