کراچی حکومت
سندھ نے ایچ آئی وی اسکریننگ ٹیسٹ کیلئے موبائیل ایپ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے
تاکہ ایسے لوگ جو ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانا چاہتے ہیں ان کی شناخت
خفیہ رکھی جائے
۔ایسے افراد بذریعہ موبائیل ایپ ٹیسٹ کرواسکتے ہیں ۔یہ بات گزشتہ
روز کراچی پریس کلب میں محکمہ صحت حکومت سندھ کے کمیونیکیبل ڈزیز کنٹرول( CDC)کی جانب سے ایچ آئی وی/ایڈز کے متعلق منعقدہ
آگہی سیشن میں بتائی گئی
سیشن سے
خطاب کرتے ہوئے ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے کہا کہ صحت کے متعلق مضمون
نصاب میں شامل کرانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ لوگ کمیونیکیبل ڈزیز سے محفوظ
رہ سکیں اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرسکیں ۔
پروگرام میں
سی ڈی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آئی وی/ایڈز ڈاکٹر شیر خان ،صوبائی ٹریٹمنٹ کو آرڈینیٹر ڈاکٹر صائمہ شیخ ،ڈاکٹر سلیم کاظمی
،ڈاکٹر افشاں عیسانی اور دیگر ماہرین نے شرکت کی ۔
آگہی سیشن میں
صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت
کی ۔
اس موقع پر
بتایا گیا کہ یو این ایڈز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پازیٹو افراد
کا تخمینہ 210000( دو لاکھ دس ہزار) ہے-
ڈاکٹر ارشاد
کاظمی نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں90300 یچ
آئی وی پازیٹو افراد میں سے 19766 رجسٹرڈ ہیں ،ان کو حکومت سندھ کی جانب سے مفت
علاج فراہم کیا جا رہا ہے-
انہوں نے مزید بتایا کہ
عطائی، غیر مستند بلڈ بنک، بذریعہ سرنج نشہ کرنے والے افراد اور سیکس ورکرز ایچ آئی
وی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہیں ۔
ان کا کہنا
تھا کہ بغیر ٹیسٹ خون کے استعمال سے پرہیز ،جنسی تعلق بیوی تک محدود رکھنے
،استعمال شدہ سرنج دوبارہ استعمال نہ کرنے سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ روکا جا سکتا
ہے ۔
انہوں نے
بتایا کہ ایچ آئی وی اسکریننگ کا عمل تیز کرتے ہوئے ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچایا گیا
ہے تاکہ بروقت تشخیص کی صورت میں علاج فراہم کرنے سے ایچ آئی وی کو ایڈز میں تبدیل
ہونے سے روکا جاسکے اور قیمتی زندگیاں بچائی جاسکیں ۔
ان کا مزید
کہنا تھا کہ ایڈز ایک خطرناک مرض ہے لیکن یہ لازمی نہین کہ ہر ایچ آئی وی پازیٹو
فرد ایڈز کا مریض بن جائے کیونکہ علاج موجود ہے اور مفت ہے-
ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص
کی صورت اور علاج سے اس وائرس کو ایڈز میں تبدیل ہونے سے روک کر زندگیاں بچائی
جاسکتی ہیں.
ڈاکٹر ارشاد کاظمی کا یہ
بھی کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی پازیٹو افراد میں سے 46 فیصد کا
تعلق کراچی سے ہے ۔
ان کا مزید
کہنا تھا کہ ایچ آئی وی مریضوں کی مالی معاونت کیلئے انڈوومینٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا
ہے،اس فنڈ سے مریضوں کی مالی معاونت اور ان کے بچوں کے علاج اور تعلیمی اخراجات کا
بندوبست کیا جا رہا ہے.
ان کے مطابق سینٹرل جیل
کراچی میں جین ایکسپرٹ اسکریننگ مشینیں نصب کی گئی ہیں تاکہ قیدیوں کی ایچ آئی وی
ٹیسٹ کے علاوہ ٹی بی کے بھی ٹیسٹ کئے جاسکیں اور تشخیص کے بعد ان کا علاج کرکے ان
کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔
ان کا مزید
کہنا تھا کہ میڈیا،سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر طبقوں کو بھی ایچ آئی وی/ ایڈز
کی آگہی میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ لوگ ایچ آئی وی/ ایڈز کا فرق سمجھ سکیں.
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایچ آئی وی/ ایڈز کے
مریضوں سے ہاتھ ملانے سے، ان کو گلے لگانے سے،ان کے ساتھ کھانا کھانے سے یا ان کی
چادر ،بستر استعمال کرنے سے یہ وائرس نہیں پھیلتا۔