دادو میں وفاقی وزیر داخلہ بلاول بھٹو زرداری کہتےہیں ایک تہائی زمین سیلاب میں ڈوبی ہو ایسا کسی اور ملک کے ساتھ نہیں ہوا،اس طرح کی قدرتی آفت کا پہلا سنا تھا پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا،
سندھ اور بلوچستان کے بہت سے علاقے ابھی بھی زیر آب ہیں
جن علاقوں سے پانی نکلا ہے وہاں تباہی ہی تباہی ہے،
ہم نے مل کر مسلسل کوشش کرنی ہے، وسائل جمع کریں تاکہ ہم لوگوں کو مشکل سے نکال سکیں، جو کام ہم نے کرنا ہے ایک دم سے نہیں ہوگا،
ہم متاثرین کو اس حالت میں لانے چاہتے ہیں کہ وہ کہہ سکیں، ہماری مدد کے بعد حکومت ہمیں پیروں پر کھڑا کرے گی،
ہمارے وزیر اعلی نے انتظار نہیں کیا، جیسے ہی مون سون کا سلسلہ چل رہا تھا، مجھے ورلڈ بینک کے ترجمانوں سے ملوایا،
اس وقت سے وزیر اعلی نے اپنی ٹیم سے کہا کہ تمام بحالی کے پروگرامز پر کام شروع کیا جائے،
ہم نے یہ سارے پروگرامز ورلڈ بینک سے منظور کروائے،
جتنے بھی وفاقی، لوکل اور یو این اداروں کے سرویز کروائے، تصاویر موجود ہیں، ڈیٹا کے مطابق ہر متاثر خاندان کو طریقہ کار اور بلا سود قرض دیں گے، گھروں کی تعمیر کے لیے،
پروگرام کی خوبی ہے کہ جہاں جہاں گھروں کو نقصان ہوا ہے، وہ نسلوں سے اس زمین پر رہ رہے ہیں لیکن مالک نہیں ہیں، جہاں سب کچھ کررہے ہیں، انہیں مالکانہ حقوق بھی دیں گے،
اگر ہم انہیں یہ ٹرانسفر کرتے ہیں تو انہیں اثاثہ دے رہے ہیں، وہ ان کی معاشی بہتری کا سبب ہوگا،
ان کی آنے والی نسلوں کے پاس آباؤاجداد سے زیادہ اثاثے ہوں گے،
اگر وہ اسے استعمال کر کے قرض لینا چاہیں، کوئی کام کرنا چاہیں تو وہ سرمایہ بھی دیا جا سکے گا
ہمارا فوکس ہے، کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر ہے،
چاہیں گے کہ اگلی بار سیلاب آنے پر ہم لوگ تیار ہوں، اور ایسے منصوبے بنائیں جائیں انفراسٹرکچر محفوظ رہے،
بے گھر جتنے لوگ ہوگئے، وہ معاشی بحران بن چکا ہے، اس کا اثر پورے پاکستان پر ہوگا،
صحت کا بحران بن چکا ہے، ایک تو بیماریاں پھیل رہی ہیں، صحت کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے،
سندھ کے سکول جانے والے بچے ان 50 فیصد اسکولوں میں جاتے ہیں
جتنا معاشی نقصان ہوگا، اتنا ہی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنے گا،
جب کووڈ کی وبا چلی تھی تو ہم بھی تپے ہوئے تھے، کہ آپ نے عوام کے ینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر حکومت بنائی گئی، پھر مشکل میں ہم نے کہا آپ وزیر اعظم ہو قدم بڑھاؤ ہم ساتھ ہیں،
اتنی بڑی تباہی میں جو پہلے کسی نے نہیں دیکھا، ہمارا سیاسی مخالف ہمیں مدد نہیں کرتا تو عوام کی مدد کرتا، ان کی جی ٹی روڈ کی سیاست چلتی رہی، بہت برا تاثر گیا ملک کے اندر اور ملک سے باہر،
آج بھی سمجھتا ہوں جس اسکیل کا بحران اور تباہی ہے، ہماری ملکی سطح پر اتنی اہمیت نہیں دی جارہی ہے،
مشن مشکل ضرور ہے، وقت لگے گا، میرا ذہن بن چکا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے،
جنوری 9 کو وزیر اعظم اور سیکریٹری جنرل یو این کے ساتھ کانفرنس رکھ رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی منصوبہ بندی دنیا کے سامنے پیش کریں گے، تب ہماری ابتدا ہوگی
ہم اس منصوبے کو دنیا بھر میں جا کر دنیا کے اداروں کو بتائیں گے،
یہ قیامت سے قیامت جیسی صورتحال تھی، یہاں کی عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیں،
عوام سے اپیل ہے کہ لوگ یہاں آئیں آپ کے لوگ اور علاقے مشکل میں ہیں، مل کے محنت اور مدد کریں
بیوروکریسی کا شاید تاثر ملک میں اچھا نہیں، لیکن میں نے چھوٹے چھوٹے لیول کے افسران کی جانب سے ریلیف میں محنت دیکھی ہے،
یو این کے سیکریٹری جنرل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں ہماری ایک درخواست پر اپنے کام چھوڑ کا آنکھوں سے حالات دیکھے اور دنیا کو بتایا،