کراچی کے تاجر میر رضا علی کے قتل کیس پر سندھ پولیس نے پہلی بار تفصیلی باضابطہ بیان جاری کردیا۔ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کیس کے مختلف پہلوؤں کا تکنیکی، ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے، جبکہ پولیس کے مطابق تمام دستیاب شواہد اور ممکنہ پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ جاری ہے۔
میر رضا علی قتل کیس میں سندھ پولیس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم طبی رپورٹس، ڈیجیٹل اور دیگر دستیاب شواہد، سابقہ تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی، اہلخانہ، حلقۂ احباب اور دیگر متعلقہ ذرائع سے حاصل معلومات کا جائزہ لے رہی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کو اب تک دو پوسٹ مارٹم رپورٹس، ایک فائنل رپورٹ اور تین کیمیائی تجزیاتی رپورٹس موصول ہوچکی ہیں، جبکہ آخری کیمیائی تجزیاتی رپورٹ 17 اگست کو موصول ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام رپورٹس کا تفصیلی، تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں سامنے آنے والے بعض نکات پر مزید وضاحت اور باہمی مطابقت کی ضرورت بھی محسوس ہوئی ہے۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق موبائل فون اور اسمارٹ واچ کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق امور کے لیے این سی سی آئی اے جبکہ موبائل فون ان لاک کرنے کے لیے ایپل حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دستیاب تکنیکی، ڈیجیٹل، فرانزک اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔
میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کی ایک پہاڑی سے ملی تھی۔ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں پر تحقیقات تاحال جاری ہیں۔