معروف مزاح نگار”مشتاق احمد یوسفی“ کی یاد میں آرٹس کونسل پاکستان میں آن لائن پروگرام بیادِ مشتاق احمد یوسفی کا انعقادکیا گیا۔
ادب سے وابستہ مختلف شخصیات نے مشتاق احمد یوسفی کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا ۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام جوش ملیحہ آبادی لائبریری میں ”بیادِ مشتاق احمد یوسفی “ کاانعقاد کیا گیا۔
جس میں زہرا نگاہ ، غزالہ رضوی، شاہد رسام، فاطمہ حسن اور صدرآرٹس کونسل احمد شاہ نے شرکت کی۔اس کے علاوہ افتخار عارف،، نعمان الحق اور ڈاکٹر طارق حبیب نے آن لائن شرکت کی۔
معروف ادیبہ زہرا نگاہ نے کہاکہ یہ بہت مشکل ہوگا کہ یوسفی صاحب پر بات کریں ان کہ کام پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔
جس طرح یوسفی صاحب نے نثر لکھی اور اس کی معنویت کو ابھارا یہ ہر ایک کہ بس کی بات نہیں ہے۔
معروف شاعرافتخار عارف کاکہنا تھا کہ مشتاق احمد یوسفی کی شخصیت ایسی نہیں تھی کہ اس کا سرسری تجزیہ کیا جا سکے ان کی شخصیت کے بے شمار رنگین جز تھے۔
میرے ساتھ ان کی محبت شفقت، سرزنش، تربیت میرا سرمایہ ہے۔
صدر آرٹس کونسل احمد شاہ
کاکہنا تھا کہ آرٹس کونسل کی جوش ملیح آبادی کی لائبریری کی بنیاد مشتاق احمد یوسفی
کی 10ہزار سے زائد نایاب کتابوں پر رکھی گئی ہے۔