بی نظیر بھٹو کی آج ستھرویں برسی منائی جا رہی ہے، بی نظیربھٹو کی شخصیت بہت ساری خوبیوں اور جدوجھد سے بھری ہوئی تھی، آج ہم اس کے قتل کے مقدمے اور اس کی فیصلے پے کچھ لکھنے کی جسارت کریں گے۔
راولپنڈی انسدادے دھشتگردی عدالت میں ایک دھائی تک چلنے والے اس اہم مقدمےکا فیصلہ جج محمد اصغر نے سناتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ملزموں کو بری کردیا، دو پولیس آفسروں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خرم شھزاد کو 17/17 سال قید اور 5/5 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔ اسی عدالت نے آرمی جنرل پرویز مشرف کی جائیداد کو ظبط کرنے اور ان پر مقدمہ ان کی ملک میں واپس آنے پر الگ چلانے کا فیصلا دیا۔
راولپنڈی کی عدالت کے اس فیصلے سے نہ صرف بی نظیر بھٹو کے چاھنے والے بلکہ پوری ملک کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیاتھا، کیوں کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزموں کے اقراری بیانوں، اور دیگر ثبوتوں کے ملنے کہ باوجود ان کو بری کردیا گیا تھا۔
بی نظیر بھٹو قتل کیس میں شامل ملزموں کے اقراری بیانات، تحقیق کے دوران موبائل فونز پر گفتگو کا ڈیٹا رکارڈ اور دوسری چیزوں کے ملنے اور دوسری معلومات اورثبوت ملک کی معتبر ترین ایجنسی آئی ایس آء نے خود جمع کئے تھے۔ جن میں بی نظیر بھٹو پر گولی چلانے والے اور دھماکا کرنے والے دو افراد سعید عرف بلال اور اکرام اللہ سے برآمد کی گئی چیزیں جن میں بلال کے جو گرشوز اور دوسرے ملزم کے پیروں میں اس وقت پہنا ہوا سروس کمپنی کا سینڈل بھی برآمد ہوا تھا، جس سےصاف ظاھر ہوتا ہے کہ بری کئے گئے پانچوں ملزمان بی نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراھ بیت اللہ محصود کی 17 سیکنڈ والی ٹیپ کی گئی گفتگو جو 28 ڈسمبر 2007 کو 9 بج کر 14 منٹ پر پشتو زبان میں رکارڈ کی گئی اس گفتگو میں بات کرنے والا مولوی تحریک طالبان کے رہنما بیت اللہ محصود کو مبارک بات دیتا ہے کہ یہ کام اکرام اللہ اور بلال نے کیا ہے جو ہمارے آدمی ہیں، جس کے جواب میں بیت اللہ محصود کہتا ہے" لڑکے تو بڑے دلیر تھے اور بڑا اچھا مارا ہے " یہ رکارڈ کی گئی گفتگو خود آئی ایس آء نے حاصل کی تھی۔ ایسے ٹھوس ثبوت ملنے کی باوجود ملزمان کو بری کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔
دوسرے طرف دو پولیس آفسروں کو بی نظیر بھٹو کو تحفظ نہ دینے میں اور غفلت برتنے ، واردات والی جگہ کو پانی سے صاف کردینے کے الزام میں سترہ سترہ سال قید اور پانچ لاکھ روپیا جرمانہ لگایا گیا۔
بری ہونے پانچ ملزموں میں اعتزاز شاھ اصل ساکن سنگل کوٹ مانسھرہ، اس وقت کراچی کی میٹرول کالونی میں رہتا تھا ، شیرزمان جنوبی وزیرستان، حسنین گل ڈیون کالونی راولپنڈی اور اس کا چچا زاد بھائی رفاقت اعوان، اور پانچواں رشید احمد شبقدر جو چار سدہ خیبرپختونخواہ کا رہائشی تھا۔
ملزمان نے اقرار کیا کہ لیاقت باغ میں بی نظیر بھٹو کو قتل کرنے کی کاروائی کی تیاری انھوں نے لیاقت باغ سے پانچ کلو میٹر دور ڈوک سیدان قائداعظم کالونی میں کی جو دونوں چچا زاد بھائیوں رفاقت اور حسنین کا گھر تھا، دونوں کو اس واردات کے لئے قاری نادر عرف اسماعیل، نصراللہ عرف احمد جو جامع حقانیہ اکوڑہ خٹک نے ان کو قائل کیا تھا،کہ مسئلوں کا حل صرف انتھا پسند کا روایوں میں ہی ممکن ہے، انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ بی نظیر بھٹو کو قتل کرنے سے پہلے بھی راولپنڈی میں دہشتگردی کی کاروایوں میں ملوث تھے۔
پاکستان کی مختلف ایجنسیز نے بھی جامع حقانیہ کے رکارڈ سے پتا لگایا تھا کہ دونوں کے نام مدرسے میں رہنے والوں کے رجسٹر میں درج تھے۔
بی نظیر بھٹو پر حملہ کرنے والے تربیت یافتہ خودکش بمبار سعید عرف بلال اور اکرام اللہ کو واقع والے دن 27 ڈسمبر 2007 کو رفاقت اور حسنین اپنی ٹیکسی میں بٹہا کر لیاقت باغ لیکر آئے تھے، اس سے پہلے صبح کو وہ فیصل مسجد اسلام آباد بھی گئے تھے۔
اس سے پہلےانہوں نے ڈوک سیدان کے گھر میں پینسل کی مدد سے لیاقت باغ کا نقشا بنا کر سعید عرف بلال اور اکرام اللہ کو بتایا گیا کہ کس جگہ پر اور کیسے حملا کیا جائے، راولپنڈی کی بازار سے خرید کی گئی مھندی بھی اپنے ہاتھوں پے لگائی ہوئی تھی، روایت ہے کہ خود کش بمبار کو دولھی کے طرح تیار کیا جاتا ہے، کیوں کہ ان کو بتایا جاتا ہے جنت میں حوریں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس بمبار کی مھندی لگے ہاتھ کی رنگین تصویر اس قتل کیس کے فائیل میں موجود ہے۔
پولیس کے طرف سے 17 مئی 2010 کو ایک مشترک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی، جس نے باقائدہ طور پے اکوڑا خٹک مدرسے کے داخلائوں کے رجسٹر اور ملزمان کے باری میں تفصیلی شواھد جمع کئے، ان سے قتل میں ملوث ملزمان کی مدرسے کے رجسٹرسے طالبہ علم ہونے کی تصدیق ہوئی۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ مدرسے کہ کمرے نمبر 85 اور 111 میں بی نظیر بھٹو کے قتل کی سازش تیار کی گئی، رپورٹ کے مطابق ملزم حسنین گل کو پولیس نے 5 جنوری 2008 کو ہی گرفتار کرلیا تھا اس نے مئجسٹریٹ کے سامنے اپنا اعترافی بیان بھی رکارڈ کرایا، اور پولیس نے حملہ کرنے والے چاروں ملزمان کی شال، جوگر شوز کا جوڑا، ٹوپی بھی برآمد کرلی تھیں۔ جن کو ایف بی آء لیبارٹری آمریکا، آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف پیتھالاجی راولپنڈی، فورنزک ڈی این ای اور حتمی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ یہ ساری چیزیں ان خودکش بمباروں کی ہیں۔
بی نظیر بھٹو قتل کیس کا تفصیلی مطالعہ اور جائزہ لینے، جن میں وہ دستاویز، مختلف ایجنسیوں کی رپورٹس اور تصویریں دیکھنے کے بعد یہ واضع ہوجاتا ہے کہ بری کئے گئے پانچوں ملزمان جن میں تین پشتو بولنے والے خیبرپختونخواہ کے رہنے والے تھے، رفاقت اور حسنین اعوان پنجابی بولنے والے راولپنڈی کے باسی تھے، جو واسطہ بلاواسطہ اس قتل کی واردات میں ملوث ہیں، جن کے ثبوت فون کالز رکارڈ، حقانی مدرسہ اکوڑہ خٹک کا داخلا رجسٹرڈ وغیرہ شامل ہیں، اس کے سوائے پاکستان کی سب سے بڑی اور طاقتور ایجنسی آئی ایس آء کی رپورٹوں کے باوجود بھی انسداد دھشتگردی کی عدالت نے پانچوں ملزموں کو بری کرنا خود ملکی اور بیرونی دنیا کے تحقیقی ایجنسیوں کی رپورٹوں کی ساکھ کو نقصان پہچانے کہ برابر ہے۔
راولپنڈی کے شھر میں سندھ کے تین وزرائے اعظم لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، اور بی نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا اور اسی شھر کی انسداد دھشتگردی عدالت نے بھی بی نظیر بھٹو کے خون سے انصاف نہیں کیا، اور انصاف فراھم نہ کرکے ملکی عدلیہ کی غیرجانبداری کو مشکوک کردیا ۔