مصطفیٰ عامر کا اغواء اور قتل کیس پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کا کہناہےکہ جب یہ لاپتہ ہوا میں نے اسی وقت نوٹس لیا۔
انکا کہناتھاکہ کیس کے حوالے سے انسداد دہشت کی عدالت کے جج نے جو بے ضابطگیاں کی ہیں اس سلسلے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو مکتوب ارسال کررہے ہیں اور کیس کے حوالے سے افواہیں اور من گھڑت بیانیئے ذیر گردش ہیں۔ ضیاء الحسن لنجار کا کہناتھاکہ متعلقہ افسران کو کیس کے جلد سے جلد حل کے احکامات دیئے۔ ڈی آئی جی سی آئی اے نے کیس کی تفتیش سے متعلق بریفنگ دی۔ کیس کی تفتیش و دیگر امور میں غفلت لاپروائی یا کوتاہی کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔ کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔انکا کہناتھاکہ اس کیس اور اسکی تفتیش پر گہری نظر ہے ۔ تفتیش کے جملہ پہلوؤں کو انتہائی غیر جانبدار اور میرٹ کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔ افواہوں اور من گھڑت بیانیئے پر پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائیگی۔