سندھ حکومت کا قیدیوں کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پاکستان کا پہلا پروگرام شروع کردیا گیا۔
پیغام پاکستان کے اشتراک سے قیدیوں کے 10 ہزار سے زائد بچوں کو پرائمری سے یونیورسٹی تک کی تعلیم میں مدد کی جائے گی۔
کراچی (12 مارچ 2025) سندھ حکومت کی طرف سے سزا یافتہ قیدیوں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کا پہلا پروگرام شروع کردیا گیا۔ اس ضمن میں سینٹرل جیل کراچی میں منعقد ہونے والی تقریب میں وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ اور وزیر جیل خانہ جات حسن علی زرداری نے شرکت کی۔ پرائمری سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم دینے کے حوالے سے یہ پروگرام محکمہ تعلیم سندھ، محکمہ جیل خانہ جات اور پیغام پاکستان کی مشترکہ کاوش سے شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت سندھ کی جیلوں میں قید 4684 سزا یافتہ قیدیوں کی بچوں کو پرائمری سے لے کر یونیورسٹیز تک تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جاۓ گی۔ تقریب میں سیکریٹری داخلہ سندھ محمد اقبال میمن، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، آئی جیل قاضی نظیر احمد، پیغام پاکستان کے نمائندے پرفیسر محمد معراج صدیقی کے علاوہ محکمہ تعلیم، اسٹیوٹا، ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز اور محکمہ جیل کے افسران اور قیدیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے کہا کہ اونر شپ ریاست سے شروع ہوتی ہے، ریاست کا کردار ماں کی طرح ہونا چاہیے، “ہم ایسے بچوں کی مدد کرنے جا رہے ہیں جن کا کوئی قصور نہیں”، اگر ایسے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا گیا تو یہ ان کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی تصور ہوگی کیوں کہ کسی کے کے کیے کی سزا ان کے بچوں کو نہیں ملنی چاہیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جس طرح مجرم کو سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اس طرح بچوں کی تعلیم بھی ریاست کی ہی ذمہ داری ہے، “ہم ایک اچھی روایت کی بنیاد ڈالنے جا رہے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ نے اس معاملے میں پہل کی ہے، قیدیوں کے بچوں کو اسکول سے یونیورسٹی سطح سے اعلیٰ تعلیم تک دلوانے میں مدد کرنے والا یہ دنیا کا پہلا ماڈل بھی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ قیدیوں کے بچوں کا ڈیٹا لے رہے ہیں، جس کی بنیاد پر خاندان کی کی مرضی کے مطابق اسکول اور یونیورسٹیز تک تعلیم میں 10 ہزار سے زائد بچوں کی مدد کی جاۓ گی، انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کے بچے سرکاری یا نجی اسکولز یا یونیورسٹیز کا انتخاب اپنی اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں، حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ آج پہلے مرحلے میں 100 بچوں کے اسکولز کے ایڈمیشن لیٹرز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ 2638 بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کردیا گیا ہے جس کے تحت ان کے خاندان کی مشاورت سے ان کو داخلہ لیٹرز دیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں اسکولوں کو آباد کرنا ہے اور جیلوں کو ویران کرنا ہے۔
اس موقع پر وزیر جیل خانہ جات سندھ علی حسن زرداری نے کہا کہ کفیل نہ ہونے کی وجہ سے قیدی کے گھر والے بھی ایک قیدی جیسی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ “ہمیں سندھ میں جیلوں کا تاثر اصلاح گھر کے طور پر منوانا ہے، قیدیوں کے بچوں کی تعلیم میں مدد ایک خاندان کو اصلاح کے مرحلے کا حصہ بنانے سے ممکن ہوسکے گی” علی حسن زرداری نے مزید کہا کہ یہ اس پروگرام کی مدد سے مرد و خواتین قیدیوں کے بچوں کو تعلیم دینے کے علاوہ بچہ جیل میں قید بچوں کی تعلیم اور ہنر سیکھنے میں بھی مدد کی جائے گی اس وقت سندھ میں 14 سزا یافتہ بچے قیدی ہیں جبکہ 56 بچے اپنے ماؤں کے ساتھ جیل میں رہتے ہیں ان کی تعلیم کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس موقع پر پیغام پاکستان کے آرگنائزر پروفیسر محمد معراج صدیقی نے کہا کہ قیدیوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تین قسم کے پروگرام تجویز کیے گئے ہیں جس کے تحت پرائمری سے یونیورسٹیز تک کی تعلیم اور ہنری تربیت، قیدیوں کے بچوں کو کاروبار کرنے کے لئے پانچ لاکھ روپے تک کی مائکرو فنانسنگ اور سزایافتہ قیدیوں کے خاندان کو ماہانہ 12 ہزار روپے تک کی معاونت فراہم کرنا شامل ہے جس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ قیدی کے بچے کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ افراد ان کو استعمال نہ کر سکیں۔
واضح رہے کہ سندھ کے جیلوں میں 24 ہزار قیدی قید ہیں، جس میں سے 4102 سزا یافتہ قیدی ہیں، جبکہ 582 ساز موت کے قیدی ہیں۔ اس موقع پر ضمیر نامی قیدی نے اپنے تاثرات میں کہا آج ان کے لیے یہ بے حد خوشی اور اطمینان کا دن ہے جب ان کی غیر موجودگی میں ان کے بچے اسکول جائیں گے اور تعلیم حاصل کر کے برائیوں سے بچ سکیں گے، اور قید نے نام نہ ظاہر کرنے کی گذارش پر اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ ان کے 2 بچے ایک اچھے اسکول میں پڑھیں گے اور اس معاشرے کے کارآمد شہری بنیں گے، “میں جب سزا مکمل کر کے ان سے ملوں گا تو میں پڑھے لکھے بچوں کا والد کہلایا جائوں گا”۔