بھیگتی آنکھوں کی کہانی ۔۔ !
اطـہـر مـنـگـی
میرے قتل میں شامل ،
سارے لوگ فرشتے تھے !
اپنی پوری زندگی میں ،
آنکھ اٹھا کر ،
دیکھا نہیں تھا !
کبھی کسی کو !
میرا یہ قصور تھا !
میں نے ،
اپنی مرضی سے ،
نکاح کیا تھا !
شادی کی تھی !
ميرے رشتےداروں کو ،
میری شادی ،
قبول نہ تھی !
فتوے جاری ھوئے !
مجرم ٹھہری !
فیصلہ میں نے ،
منظور کیا !
اور تو کوئی ،
حل ہی نہیں تھا !
بول دیا تھا !
غیرت کے ، رکھوالوں سے :
" گولی مارنے کی ھے تم کو ،
صرف اجازت ! "
گاڑی میں بٹھا کر !
لے گئے پہاڑوں طرف !
گاڑی سے اُتر کر ،
پہلے اپنی چادر کے ،
پَـلْو کو سنبھالا !
موت سے بچنے کیلئے ،
کس کے آگے !
آہ و زاری !
نا کوئی منت سماجت کی !
بھیک نہ مانگی زندگی کی !
اپنی بھيگتی آنکھوں کے ، ساتھ ،
پہاڑوں کی طرف چلتے !
موت کی جگہ پہ ،
کھڑی ہوگئی !
اور گولیاں برسائی گئیں !
اس طرح ،
اپنے جینے کے حق سے ،
محروم ہوئي !
میرے قتل میں شامل ،
سارے لوگ فرشتے تھے !
اپنی پوری زندگی میں ،
آنکھ اٹھا کر ،
دیکھا نہیں تھا ،
کبھی کسی کو ۔۔۔ !!!